بھگوا لو ٹراپ حیدرآباد بھی پہونچ گیا ۔ مسلم لڑکیوں کا تحفظ ضروری

   

یاچارم میں سنسنی خیز واقعہ ۔ ہیمنت پٹیل نے دھوکہ دے کر شادی کی تھی ۔ مسلم لڑکی کی خود کشی

حیدرآباد /23 جون ( سیاست نیوز ) شہر کے نواحی علاقہ یاچارم میں بھگوا لو ٹراپ کا سنسنی خیز اور مسلم لڑکی کے عبرت ناک انجام کا واقعہ پیش آیا ۔ ایک غیر مسلم سے شادی کرنے والی لڑکی نے ہراسانی سے تنگ آکر فیس بک پر لائیو خودکشی کرلی ۔ اس سے قبل کہ ثناء کو بچایا جاتا وہ فوت ہوچکی تھی ۔ ثناء کو محبت کے جال میں پھانس کر ہیمنت نے شادی کی تھی ۔ ہیمنت رجستھان کا متوطن بتایا گیا ہے ۔ ثناء مکان کی پہلی منزل پر رہتی تھی جبکہ والدین گراؤنڈ فلور پر تھے ۔ لڑکی کے انتہائی اقدام سے وہ بے خبر تھے ۔ ذرائع کے مطابق آج صبح اولین ساعتوں میں یہ واقعہ پیش آیا ۔ ثناء نے چند روز قبل ہی اپنے بیٹے کا اسکول میں داخلہ کروایا تھا ۔ ثناء برسر روزگار تھی اور ایر لائینس میں کام کرتی تھی ۔ لڑکی کو ہیمنت نے محبت کے جال میں پھانسا اور شہر اس کے مکان تک پہونچ گیا ۔ ہیمنت پٹیل اور ثناء کی ملاقات پہلی مرتبہ دہلی میں ہوئی تھی اور ہیمنت حیدرآباد پہونچا ۔ ثنا سے شادی کرنے والدین سے بات کی اور اپنا مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ ذرائع کے مطابق ہیمنت نے اپنا مذہب بدلنے کے بعد اپنا نام شمشیر رکھ لیا۔ تاہم مذہب تبدیل کرنے کی کوئی تصدیق یا صداقت نامہ سامنے نہیں آیا ۔ گذشتہ 5 ماہ سے ثناء کو شدید ہراسانی کا سامنا تھا ۔ ہیمنت ایک اور مسلم لڑکی سے ناجائز رشتہ چلا رہا تھا ۔ پہلے مسلم لڑکیوں سے مذہب اسلام میں دلچسپی ظاہر کرکے قریب ہونا پھر انہیں محبت کے جال میں پھانس کر اسلامی تعلیمات میں دلچسپی دکھاکر قریب ہونا اور شادی کیلئے مذہب تبدیل کرنے کا ڈھونگ رچانا ۔ ان حربوں کے ذریعہ مسلم لڑکی سے بچہ پیدا کرنا اور پھر اس قدر اذیت پہونچانا کہ وہ ان کی زندگی سے دور ہوجائے ۔ یہ سب بھگوا لو ٹراپ کا حصہ ہے ۔ ثناء سے شادی اور ایک بچے کی پیدائش کے بعد ہیمنت کی ثناء سے دلچسپی ختم ہوگئی اور وہ دوسری لڑکی صوفی خان سے جڑ گیا ۔ ثنا کے والد کے مطابق صوفی خان سے ہیمنت پٹیل عرف شمشیر کے ناجائز تعلقات ہیں اور اس پر دونوں میاں بیوی میں جھگڑے ہوئے ۔ ایک کی زندگی تباہ کرنے کے بعد ہیمنت فوری دوسری مسلم لڑکی کو تباہ کرنے میں جٹ گیا ۔ میاں بیوی میں جھگڑے کا معاملہ پولیس سے رجوع کیا گیا تھا اور افراد خاندان کی مصالحت کے بعد معاملہ تھم کیا جسکے بعد ثناء اور ہیمنٹ راجستھان چلے گئے تھے اور 5 ماہ قبل ثناء دوبارہ صوفی خان معاملہ بحث و تکرار کے بعد حیدرآباد واپس ہوئی ۔ بچے کو اسکول میں داخلہ دلایا اور سب کچھ ٹھیک تھا ۔ تاہم آج اچانک ثناء نے فیس بک پر لائیو خودکشی کرلی ۔ ثناء کی خودکشی اور اس کا عبرت ناک انجام بھگوا لو ٹراپ واقعہ پر سوشیل میڈیا پر مختلف تبصرے جاری ہیں ۔ مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھانس کر زندگیوں کو تباہ کرنا بھگوا لو ٹراپ کا مشن ہے ۔ اور اس کا بھگوا تنظیموں نے اقبال کیا ہے ۔ اسلام سے دلچسپی کا اظہار تعلیمات سے واقفیت کا ڈھونگ اور اسلامی تہذیب سے آگہی کے نام پر مسلم لڑکیوں سے قریب ہوکر انہیں تباہ کرنے کا خطرناک کھیل مسلم لڑکیوں کی آگہی اور مسلم سماج کے چوکنا رہنے سے ناکام ہوگا بلکہ بھارتی سماج میں برقراری امن کو قائم رکھنے اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ ع