بھگوت گیتا عربی میں : دائرۃ المعارف کی ایک نادر اشاعت

   

حیدرآباد ۔ 29 جون (سیاست نیوز) کیا کوئی مسلم ادارہ ہندوؤں کی مقدس کتاب کے تحفظ میں شامل ہوسکتا ہے؟ ایک ایسے وقت جب مذہبی تعصب میں اضافہ ہورہا ہے، یہ بعیداز قیاس معلوم ہوگا۔ جی ہاں، عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں واقع باوقار اورینٹل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، دائرۃ المعارف العثمانیہ یہ کام کررہا ہے اور اس سے زیادہ بھی۔ نظام ششم محبوب علی پاشاہ کے دورحکومت میں 1888 میں قائم کیا گیا۔ دائرۃ المعارف ایک عرصہ دراز سے نایاب عربی مخطوطات کی ایڈیٹنگ اور اشاعت کا ایک مرکز بنا ہوا ہے۔ برسہابرس میں اس ادارہ نے 240 اہم ٹائیٹلس کو 800 ویلیومز میں شائع کیا ہے۔ ان میں ہندوؤں کی مقدس کتاب، بھگوت گیتا کا عربی ترجمہ شامل ہے۔ اس نادر ایڈیشن ’الکیتا‘ کا سنسکرت سے عربی میں ترجمہ کلکتہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر مکھن لال رائے چودھری نے کیا۔ اس عالمانہ کام کی اشاعت دراصل 1951 میں ہوئی تھی اور بعد میں مرکز کی ہماری دھروہر اسکیم کے تحت 2016ء میں دوبارہ پرنٹنگ کی گئی۔ تفصیلی تعارف اور شرح کے ساتھ عربک گیتا کو تقابلی مذہبی لٹریچر میں ایک اہم کام سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور، ڈائرکٹر، دائرۃ المعارف نے کہا کہ اس کا مقصد تہذیبی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دائرۃ المعارف میں رامائنا کا فارسی ترجمہ بھی ہے۔ دونوں کتابوں کا عصری آرکائیول ٹیکنکس کا استعمال کرتے ہوئے تحفظ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر چودھری نے کہا جاتا ہیکہ الازہر یونیورسٹی، قاہرہ میں ان کے تعلیمی دور کے دوران پروفیسر محمد حبیب احمد کی نگرانی میں گیتا کا ترجمہ عربی میں کیا تھا۔ اس کیلئے دائرۃ المعارف نے فنڈ فراہم کرتے ہوئے مدد کی تھی۔ عربک گیتا نے دنیا بھر کے اسکالرس میں دلچسپی پیدا کی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اس کی کافی مانگ ہے۔ تقابلی مذہب میں ریسرچ میں مدد کیلئے اس کتاب کی بڑے پیمانے پر تقسیم عمل میں لائی گئی۔