زیرتعمیرویج ونان ویج مارکٹ کاکام بھی ٹھپ‘ حکومت کوپرشانت ریڈی کی توجہ دہانی
نظام آباد:29؍ ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اسمبلی اجلاس کے پہلے روز زیرو آور میں سابق وزیر و رکن اسمبلی بالکنڈہ مسٹر پرشانت ریڈی نے بھیمگل میونسپلٹی سے متعلق 100 بستروں کے سرکاری اسپتال اور انٹیگریٹڈ ویج و نان ویج مارکیٹ کے کاموں میں پیش رفت اور زیر التواء بلوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ حکومت کی توجہ مبذول کروایا۔اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ بالکنڈہ حلقہ کے بھیمگل میونسپلٹی مستقر میں سابقہ حکومت کے دور میں 100 بستروں کے اسپتال کی منظوری دی گئی تھی، جس کے تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہوچکے ہیں اور عملے کی الاٹمنٹ بھی ہوچکی ہے، تاہم عمارت مکمل نہ ہونے کے سبب عملہ عارضی مقامات پر خدمات انجام دینے پر مجبور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد گزشتہ دو برسوں سے اسپتال کے کام مکمل طور پر زیر التواء ہیں، حالانکہ 35 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ منصوبہ میں سے تقریباً 30 کروڑ روپے کے کام مکمل ہوچکے ہیں۔ اگر زیر التواء بلوں کی ادائیگی کے ساتھ باقی 5 کروڑ روپے جاری کردیے جائیں تو عوام، بالخصوص غریب طبقات کو فوری طور پر بہتر طبی سہولتیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔رکن اسمبلی مسٹر پرشانت ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر صحت دامودر راج نرسمہا فوری طور پر اسپتال کے بقایہ بل ادا کرائیں اور بقیہ رقم جاری کرکے تعمیراتی کام مکمل کروائیں۔ اسی طرح بھیمگل میونسپلٹی میں انٹیگریٹڈ ویج و نان ویج مارکیٹ کی تکمیل کا مسئلہ بھی اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی سڑک پر لگنے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں 3.5 کروڑ روپے کی لاگت سے میونسپلٹی مستقر میں مارکیٹ عمارت کی منظوری دے کر کام شروع کیا گیا تھا جو اب آخری مرحلہ میں ہے، لیکن موجودہ حکومت کے بعد کام ٹھپ ہوگیا ہے۔ کنٹریکٹر بلوں کی عدم ادائیگی کی شکایت کررہا ہے، لہٰذا حکومت فوری بلوں کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے انٹیگریٹڈ ویج و نان ویج مارکیٹ کے باقی کام مکمل کرائے، تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔
