بھینسہ فرقہ وارانہ تشدد کا اثر اب قریبی مواضعات میں ظاہر

   

Ferty9 Clinic

ایک اور ٹویرا کار نذر آتش کردی گئی۔ کوبیر منڈل میں پولیس مصروف تحقیقات

بھینسہ :بھینسہ میں پانچ روز قبل پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کا اثر اب قریبی مواضعات میں دیکھا جارہاہے۔ تفصیلات کے بموجب بھینسہ ڈیویژن کوبیر (Kubeer) منڈل کے موضع پارڈی بی میں بس اسٹانڈ علاقہ میں ایک ٹویرا(Tavera)موٹرکار کو نا معلوم شرپسندوں نے آگ لگادی جس کی وجہ موٹرکار کا سامنے کا حصہ مکمل طور پر جلکر خاکستر ہوگیا۔ یہ موٹرکار اعجاز احمد نامی شخص نے چار روز قبل خریدی تھی اور اپنے مکان کے سامنے پارک کی لیکن رات دیر گئے کار کو اشرار کی جانب سے آگ لگانے سے سامنے کا ٹائیر شدت کی آواز سے پھٹ پڑا جس پر محلہ کے افراد نیند سے بیدار ہوکر مکان سے باہر نکل کر دیکھنے پر موٹر کار جل رہی تھی جس پر فوراً موٹرکے مالک اعجازاحمد کو اطلاع دی گئی۔ بعدازاں یہ اطلاع پولیس کو ملنے پر اوٹنور ڈی ایس پی مسٹر اْدئے، بھینسہ رورل سرکل انسپکٹر چندر شیکھر اور کوبیر سب انسپکٹر پربھاکر ریڈی نے مقام واقعہ پہنچ کر مکمل معائنہ اور پنچنامہ کیاجبکہ مالک اعجاز احمد کی جانب سے ایک شکایت داخل کرنے پر مقدمہ درج کرتے ہوئے موضع پارڈی میں پولیس پیکٹس کو متعین کردیا گیا۔ موضع پارڈی بی کی عوام میں اس واقعہ کو لیکر کافی دہشت و بے چینی کا ماحول دیکھا جارہاہے جبکہ ڈیویژن کے مختلف مواضعات کے اقلیتی طبقے کی عوام میں کافی تجسس اور دہشت پائی جارہی ہے ۔ ریاستی حکومت اور تلنگانہ پولیس کو مزید متحرک ہوکر بھینسہ شہر اور ڈیویژن کے تمام مواضعات پر کڑی نظر مرکوز کرتے ہوئے شرپسندوں کے ناپاک عزائم کو کچلنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا چاہیئے کیونکہ بھینسہ میں سال 2008 کے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران موضع وٹولی میں بدترین سانحہ پیش آیا تھا ۔موضع پارڈی بی میں رات دیر گئے پیش آئے اس واقعہ سے بھینسہ میں مزید افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔