خاطیوں کی گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ ، حکومت فساد متاثرین کی فوری امداد کرے
حیدرآباد /14 جنوری ( سیاست نیوز ) امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ محمد حامد محمد خان نے بھینسہ میں پیش آئے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں ان کی مذمت کی اور اسے حکومت اور پولیس کی ناکامی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو حالات پر قابو پایا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرپسندوں کی منصوبہ بند سازش معلوم ہوتی ہے ۔ جس کے ذریعہ وہ پرامن فضاء کو مکدر کرنا چاہتے ہیں ۔ امیر حلقہ حامد محمد خان نے کہا کہ اشرار نے نہ صرف پولیس کی موجودگی میں ہنگامہ آرائی کی اور مسلمانوں کے مکانات پر حملے کئے ۔ بلکہ مساجد کو بھی نشانہ بنایا اور قرآن مجید کی بے حرمتی کی ، جانمازوں کو نذر آتش کیا اور یہ سب شہر میں پولیس کی بڑی تعداد میں تعیناتی کے بعد ہوا ہے جو قابل افسوس ہے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ مقامی رکن پارلیمنٹ سویم باپو راؤ کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات دئے جانے کے بعد ماحول کشیدہ اوا اور منصوبہ بند انداز میں اشرار نے یہ کارروائی انجام دی ۔ دوسری طرف پولیس نے اپنے گھروں کی حفاظت کیلئے باہر نکلنے والے نہتے لوگوں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیاس شل برسائے ۔ امیر حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان نے تلنگانہ کے وزیر اعلی جناب کے چندر شیکھر راؤ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور فوری طور پر امن بحال کیا جائے ۔ ساتھ ہی زخمیوں کے بہتر علاج کیلئے ایکس گریشیا جاری کرے اور املاک کے نقصان کی پابجائی بھی کرے اور آئندہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرے ۔