بھینسہ کے ہوم گارڈ کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ

   

Ferty9 Clinic

جمعیت العلماء نظام آباد کے وفد کی وزیر داخلہ محمود علی سے نمائندگی
نظام آباد :صدر جمعیت العلماء نظام آباد حافظ لئیق خان نے صدر جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش مفتی غیاث الدین رحمانی ، سکریٹری مفتی محمود ذبیر کے ہمراہ وفد کے ذریعہ وزیر داخلہ محمود علی سے ملاقات کی اور بھینسہ کے ہوم گارڈ شیخ محمود کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ لئیق خان نے وزیر داخلہ محمود علی کو واقف کراتے ہوئے بتایا کہ 3تا 4 ماہ قبل ایک برقعہ پوش خاتون غیر مسلم کے ساتھ سیکل موٹر پر جاتے ہوئے 6 مسلم نوجوانوں نے اسے جانکم پیٹ کے پاس روکا تھا اور ان میں شیخ نعمان بھی ساتھ تھے اس منظر کی چند افراد نے اس کی فلمبندی کی تھی اور سوشل میڈیا پر وائرل کیا تھا بی جے پی نے ویڈیو کا سہارا لیتے ہوئے ہندو نوجوان کو مسلم لڑکی کے ساتھ پائے جانے پر اعتراض کرنے والے مسلم نوجوانوں کے خلاف ایڑپلی پولیس اسٹیشن میں شکایت کی تھی اور رکن پارلیمان نظام آباد ڈی اروند نے پولیس پر دبائو ڈالتے ہوئے ان 6 نوجوانوں کیخلاف سنگین دفعات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ریمانڈ پر دیا تھا ۔ ضمانت پر باہر آنے کے بعد شیخ رحمن اور دوسرے نوجوان پر بھینسہ پولیس نے بھینسہ کے فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا تھا اور شیخ نعمان کے والد شیخ محمود محکمہ پولیس میں ہوم گارڈ سے وابستہ ہے انہیں معطل کردیا گیا جس سے انہیں شدید صدمہ ہوا تھا اور بیمار بھی ہوگئے تھے ۔ حافظ لئیق خان نے اس سلسلہ میں انسانی حقوق کمیشن سے بھی نمائندگی کی تھی آج وزیر داخلہ محمود علی سے ریاستی جمعیت العلماء کے ذریعہ پھر ایک مرتبہ نمائندگی کرتے ہوئے اس معاملہ میں انصاف کرنے اور نعمان کے والد شیخ محمود کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ جس پر وزیر داخلہ محمود علی نے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے مناسب اقدامات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔