کھال کے عوض چھوٹے جانور کا 200 روپئے اور بڑے جانور میں فی حصہ 100 روپئے اپنے پسندیدہ ادارے کو دینے کا مشورہ
بریلوی ، سنی ، تبلیغی جماعت ، دیوبندی ، جمعیتہ العلماء ، اہلحدیث ، جماعت اسلامی و دیگر مدارس اور اداروں کے علماء و ذمہ داروں نے شرکت کی
بھیونڈی ۔ 25 ۔ جولائی : ( ایجنسیز ) : بھیونڈی شہر کے قلب میں واقع مومن جماعت خانہ میں گزشتہ روز بعد نماز عشاء ایک نہایت ہی اہم میٹنگ منعقد کی گئی ، جس میں ملک کے موجودہ حالات اور قربانی کی کھالوں پر کی جارہی سازشوں کے حل کے لیے بھیونڈی کے تمام مسالک کے علماء و عوام نے شرکت کی ۔ اسٹیج علماء کرام سے بھرا ہوا تھا جب کہ عوام سے بھی پورا ہال بھرا ہوا تھا ۔ قرات و نعت کے بعد ناظم میٹنگ مولانا امتیاز فلاحی نے صدارت کے لیے مولانا تنویر اشرفی کا نام پیش کیا ۔ جن کی تائید کے بعد میٹنگ شروع ہوگئی ۔ سبھی علماء کرام و ذمہ داروں نے اپنے اپنے مسلک و اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی الگ الگ رائے پیش کریں ۔ جمہور حضرات نے اس بات کی تائید کی کہ امسال قربانی کی کھالوں کو ضائع کردیا جائے ، حالانکہ ضائع کیے جانے کی کیا صورت ہوگی ، اس پر زیادہ تبصرہ نہیں ہوا ، مگر پھر یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ جہاں قربانی کی جائے یا جہاں قربانی کے سینٹر بنائے جائیں گے وہیں کھال کے متعدد کم از کم چار ٹکڑے کر کے وہیں چھوڑ دیا جائے اور اس کے عوض چھوٹے جانور کا 200 روپئے اور بڑے جانور میں فی حصہ 100 روپئے اپنے پسندیدہ ادارے کو دیں ۔ اس طرح مدارس اسلامیہ کا تعاون بھی ہوگا اور حکومت یاکھالوں کے تاجروں کے ذریعے کی جارہی زیادتیوں سے بھی نجات ملے گی ۔ بہت ممکن ہے کہ آئندہ سال کھالوں کی صحیح رقم حاصل ہوسکے ۔ اس پر عوام نے بھی کئی بار دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے اس فیصلے کی تائید کی ۔ عوامی نمائندگی کے فیاص سر نے مائیک پر تائید کی ۔ بھیونڈی کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ تمام مسالک کے علماء و ذمہ داران ایک ہی اسٹیج پر موجود تھے ، جن میں مولانا حلیم اللہ قاسمی ،مولانا رئیس ندوی ، مفتی لئیق ، مفتی حفیظ اللہ ، مولانا اوصاف فلاحی ، مولانا مطیع الرحمن سلفی ، ریاض طاہر مومن ، قاری ظہیر ، قاری طیب فیضی ، مفتی اشفاق رضا ، شفیق بابا اشرفی ، قاری ظہیر الدین برکاتی ، محمد انور علی انصاری ، شریف انصاری و دیگر حضرات کے نام سرفہرست ہیں اور اکثر حضرات ایک دوسرے کی حمایت بھی کررہے تھے ۔ اس منظر نے تمام حاضرین میٹنگ کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ۔ ہر خاص و عام بس یہی چاہتا تھا کہ ملی مسائل کے لیے اس طرح کا اتحاد بار بار ہونا چاہیے ۔ بقر عید کے بعد اس طرح کا ایک پروگرام اور ہونا طئے پایا ہے ۔ جس میں مختلف مسائل کے حل کے لیے تبصرہ کیا جائے گا ۔ صدارتی خطبے کے بعد مولانا تنویر اشرفی نے دعا کی اور مشتاق بھائی کی کمیٹی کی جانب سے تمام علماء و عوام کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے بعد پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ انتظامیہ کی جانب سے علماء کرام اور دیگر ذمہ داران کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد پریس رپورٹوں نے علماء کرام کے انٹرویو بھی لیے ۔ اس اہم پروگرام کو کامیاب بنانے اور اس میں شرکت کرنے والے تمام عوام و خواص کا غیر نامزد رضا کاروں اور بہی خواہان قوم نے دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عید الاضحیٰ کے بعد ملک و ملت کو درپیش دیگر مسائل پر بھی لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور ہمیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ لوگ اسی طرح ہر اختلاف کو بھلا کر ایک جگہ ایک اسٹیج پر جمع ہوں گے ۔۔
