بہارمدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی پہلی میٹنگ میں چیئرمین اور تمام اراکین آمنے سامنے

,

   

بہارمدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل کے بعد پٹنہ میں بورڈ کی پہلی میٹنگ ہوئی ۔ پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقد اس میٹنگ میں چیئرمین کے ذریعہ لئے گئے تمام فیصلوں کو بورڈ کے ممبروں نے رد کردیا۔ چیئرمین کے اشارہ پرانکے لوگوں نے میٹنگ کے کوریج سے میڈیا کو روکنے کی کوشش کی۔ ادھربورڈ کے ممبروں نے چیئرمین کی تانا شاہی پرشکنجا کستے ہوئے تمام کام کو بورڈ سے منظور کرانے کی سخت ہدایت دے ڈالی ۔

بہارمدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی یہ پہلی میٹنگ ہے۔ چیرمین بنتے ہی عبدالقیوم انصاری نے بورڈ کے ممبروں کی منظوری کے بغیرمدرسوں کے تعلق سے کئی ایسے فیصلہ کئے جس پرپوری ریاست میں ہنگامہ ہوگیا ۔ چیئرمین کے مختلف فیصلوں کے خلاف لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹھٹایا اورعدالت کے حکم کے بعد آخر کار چیئرمین کو ہوش آیا اور انہوں نے بورڈ کی پہلی میٹنگ منعقد کی۔ بورڈ کی پہلی میٹنگ میں ماضی میں چیئرمین کے ذریعہ لئے گئے تمام فیصلوں کو ممبروں نے رد کردیا۔

اب مدرسوں کو ٹرسٹ بنانے کے لئے سوسائٹی ایکٹ سے رجسٹرڈ نہیں کرانا ہوگا۔مدرسوں کی کمیٹی ہی پہلے کی طرح تمام فیصلہ کرےگی۔جن مدرسوں کا الحاق ختم کیاگیا ہے انہیں واپس لیا جائےگا۔الحاق ختم کئے گئے مدرسوں کے اساتذہ کی تنخواہیں واگذار کی جائیں گیں۔مدرسہ بورڈ کی میٹنگ پابندی سے منعقد کی جائےگی۔چیئرمین اپنے اختیارات کے مطابق ہی فیصلہ کرینگے۔بورڈ میں کسی بھی طرح کا کام کرنے کے لئے مدرسہ بورڈ کی منظوری لینی ہوگی۔عارضی طور پر بحال ملازمین کو مدرسہ بورڈ سے ہٹایا جائےگا۔ ملازمین کی بحالی حکومت کے قانون کے مطابق کی جائےگی

مدرسوں کے اساتزہ و طلباء کوپیٹ بھرنے کے لئے بھلے ہی جدوجہد کرنی پڑتی ہو لیکن پٹنہ میں مدرسہ بورڈ کی میٹنگ پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقد کی گئ۔ ایک پلیٹ کھانے پرکئی سو روپیے خرچ کئے گئے اور مزہ لے لے کرکھانا کھایاگیا۔ سوپ کے ساتھ بریانی اورچکن مٹن کا بھی انتظام تھا۔ جب اس سوال کو مدرسہ بورڈ کے ممبراور سنّی وقف بورڈ کے چیئرمین سے نیوز18نے پوچھا توانہوں نے کہاکہ مدرسہ بورڈ زکوٰاۃ اور عطیات سے چلایا جاتاہے اس ایسے اخراجات سے گریز کیاجاناچاہیے۔

چیرمین اس میٹنگ سے تھوڑے مایوس نظر آئے۔ میڈیا کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ہمت کر کے جب میڈیا کے سوال کا جواب دینے آئے تو پہلے ہی سوال پر بدک گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیسے اپنے رشتہ داروں کو بحال کرلیا تو کیمرہ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ مدرسہ بورڈ کے ممبروں نے کافی پرجوش انداز میں میٹنگ کی اور اپنی ہر بات کو منوا لیا یہاں تک کی چیئرمین کے ایک ایک فیصلہ پرچیئرمین کو کھری کھوٹی سنا ئی لیکن اب بڑا سوال یہ ہیکہ خستہ حال مدرسہ کی تعلیم کودرست کرنے کے لئے مدرسہ بورڈ کی یہ ٹیم کتنی سنجیدہ ہوگی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا