عوام نے ترقی کیلئے اپنا فیصلہ کن ووٹ دیا: وزیراعظم مودی۔ہم 119 نشستوں پر کامیاب ، تیجسوی یادو کا دعویٰ، الیکشن کمیشن دباؤ کا شکار
پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج رات دیر گئے تک بھی جاری نہیں کئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے ایک بجے شب پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 243 اسمبلی حلقوں کے منجملہ 223 نشستوں کا اعلان کیا اور 20 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی ہنوز جاری ہے۔ این ڈی اے اتحاد اور مہا گٹھ بندھن میں کانٹے کی ٹکر چل رہی ہے۔ صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوا ۔ رائے شماری کے مراکز پر کووڈ۔19 پروٹوکول کو ملحوظ رکھتے ہوئے دن بھر وقفہ وقفہ سے نتائج کی تفصیلات بتائی گئی ۔ کورونا وباء کی وجہ سے رائے شماری کے عمل میں تاخیر ہوئی ۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ بہار اسمبلی کیلئے تین مرحلوں میں ہوئی رائے دہی میں زیادہ بوتھس رکھے گئے تھے اسی لئے ای وی ایم کو جمع کرنے اور ووٹوں کی گنتی کیلئے تاخیر ہورہی ہے ۔ اس سال 55 مقامات پر ووٹوں کی گنتی کی گئی ۔ قبل ازیں رجحان میں تیجسوی یادو زیر قیادت مہا گٹھ بندھن کو سبقت حاصل تھی لیکن بعد ازاں این ڈی اے مطلوب اکثریت کے ساتھ اقتدار تک پہنچ گیا ہے ۔ مہا گٹھ بندھن اقتدار کے لئے معمولی نشستوں سے پیچھے رہا ۔ ان انتخابات میں اہم امیدواروں میں تیجسوی یادو رگھو پور سے جیت گئے ہیں جبکہ پٹنہ صاحب سے بی جے پی امیدوار نند کشور یادو بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔ حسن پور سے آر جے ڈی لیڈر تیج پرتاپ یادو کو بھی کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاعات کے مطابق 243 کے منجملہ 231 کے نتائج الیکشن کمیشن کے ویب سائیٹ پر جاری کئے گئے ہیں ۔ راشٹریہ جنتا دل کو 75 نشستیں مل رہی ہیں، بی جے پی 74 حاصل کی ہیں ۔ جنتا دل یو کو 43 نشستیں جبکہ کانگریس کو 19 نشستوں پر اور بائیں بازو پارٹی کو 16 نشستوں پر کامیابی مل رہی ہے ۔ مجموعی طور پر این ڈی ای کو 125 نشستیں حاصل ہورہی ہیں اور مہا گٹھ بندھن کے حق میں 110 نشستیں آئیں گی۔ بہار اسمبلی کیلئے 122 کے جادوئی ہندسہ کو پار کرتے ہوئے این ڈی اے نے حکومت سازی کا دعویٰ کیا ہے ۔
مجلس اتحاد المسلین کو 5 نشستوں پر کامیابی ملی ہے ۔ بی ایس پی 1 اور آزاد امیدوار 1منتخب قرار دیئے گئے ہیں ۔ جملہ 4.11 کروڑ ووٹ ڈالے گئے ۔ نتیش کمار حکومت میں تین وزراء کو شکست ہوئی ہے جبکہ سی پی آئی ایم ایل نے بہترین مظاہرہ کیا ہے ۔ اس کو الاٹ کردہ 19 نشستوں میں سے 12 پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ وسط اور مغربی بہار کے اضلاع جیسے بھوج پور ، جہان آباد، اورنگ آباد اور روہتس میں آر جے ڈی نے بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ دربھنگا ، مدھوبنی ، چمپارن ، جموئی اور مونگیر اضلاع میں بی جے پی کامیاب ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بہار کے عوام نے ترقی کیلئے این ڈی اے کو دوبارہ فیصلہ کن ووٹ دیا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالتے ہوئے برسر اقتدار حکومت اپنے حق میں فیصلہ سنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آر جے ڈی اتحاد کو 119 نشستوں پر کامیابی مل رہی ہے ۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار اور ڈپٹی چیف منسٹر سشیل کمار مودی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ڈسٹرکٹ اور الیکشن عہدیداروں پر دباؤ ڈالتے ہوئے نتائج کو حکمراں جنتا دل یو بی جے پی اتحاد کے حق میں اعلان کرنے کا زور دے رہے ہیں۔ منگل کی شب ٹوئیٹ کردہ بیان میں انہوں نے 119 اسمبلی حلقوں کی فہرست کا اسکرین شارٹ بھی منسلک کیا ہے ۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارٹی نے ان حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ریٹرننگ آفیسر نے بھی آر جے ڈی کی کامیابی پر بھی مبارکباد دی تھی لیکن اب یہ آفیسر کامیاب امیدوار کو سرٹیفکٹ نہیں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ ناکام ہوئے ہیں۔ آر جے ڈی نے ٹوئیٹ کیا کہ آر جے ڈی کے جن امیدواروں کو الیکشن کمیشن نے ناکام قرار دیا ، وہی امیدواروں کے نام الیکشن کمیشن کے ویب سائیٹ پر کامیاب امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ نتیش کمار نظم و نسق نے عمداً و قصداً نتائج میں تاخیر کی ہے ۔ کانگریس کے چند قائدین نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے نے ای وی ایم کو ہیک کرلیا ہے۔ تاہم بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے جیسوال نے کہا کہ بہار کے عوام نے پھر ایک بار وزیراعظم نریندر مودی کے تحت این ڈی اے پر بھروسہ کیا ہے ، ہم عوام کے ممنون و مشکور ہیں۔ انتخابی نتائج نے تیجسوی یادو کے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ وہ 14 سال بعد اپنے والد کی آر جے ڈی پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے۔ ایل جے پی لیڈر چراغ پاسوان نے بھی اچھا مظاہرہ نہیں کیا۔ کئی حلقوں میں ایل جے پی کے امیدواروں نے آر جے ڈی کے ووٹ کاٹے ہیں۔ اسی لئے این ڈی اے کو فائدہ ہوا۔
