چینائی۔27 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے کی حلیف جماعت پی ایم کے نے بہار اسمبلی میں این آر سی کے خلاف پیش کئے گئے قرارداد کی ستائش کرتے ہوئے ٹاملناڈو حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت بہار کی تقلید کرتے ہوئے ٹاملناڈو میں بھی این آر سی کے خلاف تجویز منظور کی جائے اور این پی آر کے حوالے سے بھی حکومت بہار کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے اسے قابل تقلید قرار دیا ۔ انہوں نے ٹاملناڈو حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے اس بیان پر اظہار اطمینان کیا کہ ٹاملناڈو میں بھی بہار کی طرز پر قرارداد پیش کی جائے گی اور این پی آر بھی سال 2010ء کے فارمیٹ پر منعقد کرنے غور کیا جارہا ہے ۔ پارٹی کے بانی قائد ایس رام دوس مطالبہ کیا کہ ریاست ٹاملناڈو میں بھی نیشنل پاپولیشن رجسٹر ( این پی آر ) کو 2010ء فارمیٹ پر منعقد کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومتوں کا فرض ہے کہ ملک بھر میں این پی آر کے حوالے سے پھیلے ہوئے خدشات اور خوف کو دور کریں ۔ اپنے سلسلہ وار ٹوئیٹ میں انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ حکومت بہار کے طرز پر ٹاملناڈو اسمبلی میں این آر سی کے خلاف قرارداد پیش کیا جائے ۔ واضح رہے کہ بہار اسمبلی میں پچھلے منگل کو متفقہ طور پر قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں این آر سی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہار اسمبلی میں اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ این پی آر 2010ء کے فارمٹ کے مطابق ہی روبہ عمل لایا جائے گا ۔ چہارشنبہ کو ٹاملناڈو چیف منسٹر کے پلانی سوامی نے کہا تھا کہ مخالف این آر سی قرارداد پر اُن کی حکومت غور کررہی ہے ۔ جس پر جلد ہی فیصلہ کرلیا جائے گا ۔ پلانی سوامی کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رام دوس نے اُسے صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہیئے کہ وہ این پی آر کے حوالے سے بھی عوام میں پھیلی ہوئی تشویش اور خوف کو جلد سے جلد دور کریں ۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کے اُس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ این آر سی صرف ریاست آسام کیلئے لایا گیا تھا ۔