بہار میں آر جے ڈی اور کانگریس کے حق میں عوامی لہر

   

سیمانچل کے چار اسمبلی حلقوں میں محمد علی شبیر کی انتخابی مہم، جذباتی نعروں کا شکار نہ ہونے عوام سے اپیل
حیدرآباد: بہار میں اسمبلی انتخابات کی مہم کے آخری دن سیمانچل کے چار اسمبلی حلقہ جات میں سابق وزیر محمد علی شبیر نے کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے امور، بائسی، کسبا اور پورنیا اسمبلی حلقوں میں ریالیوں سے خطاب کیا اور مختلف مقامات پر رائے دہندوں سے شخصی طور پر ملاقات کی ۔ کشن گنج اور پورنیا ضلعوں میں آخری مرحلہ کی مہم کا آج شام اختتام عمل میں آیا۔ دونوں اضلاع میں آر جے ڈی اور کانگریس اتحاد کے حق میں لہر پائی جاتی ہے ۔ محمد علی شبیر نے جن اسمبلی حلقوں میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا ، وہاں سے سیکولر امیدواروں کے خلاف حیدرآباد کی مقامی جماعت مجلس نے اپنے امیدوار کھڑا کئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے رائے دہندوں سے کہا کہ وہ مجلس کے جذباتی نعروں اور تقاریر سے متاثر ہوئے بغیر شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکولر محاذ کو کامیاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں عوام سیلاب سے متاثر ہیں ، ان کی امداد کرنے کے بجائے مجلس کے قائدین بہار کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی پسماندگی دور کرنے میں ناکام مجلسی قیادت سمانچل کی پسماندگی کیسے دور کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے مجلس نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ حیدرآباد جہاں مجلس کا گڑھ ہے، وہاں صرف 8 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کرنے والی جماعت بہار میں 20 سے زائد حلقوں پر مقابلہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکولر طاقتوں کو مستحکم کرنے کیلئے آر جے ڈی کانگریس اتحاد کو کامیاب کریں۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ بہار میں ہر طرف نوجوان آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں ۔ بہار میں تبدیلی کی لہر عروج پر ہے۔ محمد علی شبیر نے اے آئی سی سی قائد رندیپ سرجے والا ، ناصر حسین ایم پی اور نامور اردو شاعر عمران پرتاپ گڑھی کے ہمراہ مقامی کانگریس قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابی صورتحال کا جائزہ لیا۔