سڑکوں پر کشتیوں کا استعمال ۔ دواخانوں میں پانی گھس گیا ۔ درجنوں گاوں زیر آب ۔ دفاتر و تعلیمی اداروں کا کام کاج متاثر
پٹنہ 29 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کے نتیجہ میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ریاست میں آج مسلسل تیسرے دن بھی شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اور کئی مقامات پر سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ہے اور ٹریفک بھی متاثر ہوئی ہے ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ چھ افراد بھاگلپور ضلع میں اور چھ افراد گیا ضلع میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ افراد پٹنہ میں اور چار کیمور میں فوت ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بیگوسرائے ‘ جموئی ‘ سیتامڑھی اور سمستی پور اضلاع میں چار افراد کی موت واقع ہوگئی ہے۔ بارش کی شدت اور سڑکوں پر پانی جمع ہوجانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پٹنہ کی سڑکوں پر کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات کو منتقل کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ پٹنہ شہر کے کئی دواخانوں میں پانی گھس آیا ہے اور مریضوں سے بھرے وارڈز پانی میں گھر گئے ہیں۔ بارش کے نتیجہ میں ٹرین ٹریفک متاثر ہوئی ہے ۔ دواخانوں کا کام کاج ‘ سرکاری دفاتر اور اسکولس کی حاضری بھی متاثر ہوئی ہے ۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے کے عہدیداروں نے بتایا کہ پٹریوں پر پانی جمع ہوجانے کے نتیجہ میں کم از کم 12 ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا ہے اور سات ٹرینوں کا فیصلہ کم کردیا گیا ہے اور 20 ٹرینوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مظفرپور ‘ مغربی چمپارن ‘ مشرقی چمپارن ‘ دربھنگہ ‘ گیا ‘ بھوجپور اور بھاگلپور اضلاع کے درجنوں گاوں زیر آب آگئے ہیں۔ نشیبی علاقوں کے مکانات اور دوکانوں میں بھی پانی گھس آیا ہے اور لوگوں کو انتہائی مشکل کے ساتھ پانی سے بھری گلیوں اور سڑکوں سے گذرتے دیکھا جارہا ہے ۔
آج صبح بھی کئی ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا ہے کیونکہ پٹنہ اور دیگر اضلاع میں پٹریاں بھی زیر آب آگئی ہیں۔ بچاوں ٹیموں کو بہار کے کچھ اضلاع میں متعین کردیا گیا ہے جہاں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ این ڈی آر ایف نے کہا کہ اس کی 18 ٹیموں کو ریاست بھر میں متعین کیا گیا ہے ۔ پرنسپل سکریٹری ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ پراتائے امرت نے کہا کہ انہوں نے ان تمام اضلاع کو چوکس کردیا ہے جہاں شدید بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ ضلع انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دیدی گئی ہے ۔ محکمہ آبی وسائل کے عہدیداروں نے بتایا کہ تمام دریاوں میں پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے اور کئی ٹاونس زیر آب آتے جا رہے ہیں۔ دریاوں کے پشتوں پر دباو بڑھتا جا رہا ہے ۔ خود دارالحکومت پٹنہ میں بھی جو دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے کئی علاقے جن میں شہر کی اہم سڑکیں بھی شامل ہیں زیر آب آگئے ہیں۔
سرکاری دواخانوں بشمول نالندہ میڈیکل کالج ہاسپٹل اور گردنی باغ ہاسپٹل کے کئی وارڈز میں پانی گھس آیا ہے ۔ ایمبولنس گاڑیاں چلنے کے قابل نہیں ہیں اور آکسیجن سلینڈرس منتقل کرنے ہتھ گاڑیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے ۔