پہلے مرحلہ میں جے ڈی یو کو نقصان کے بعد ایم آئی ایم کی جارحانہ مہم
نئی دہلی : حالیہ بہار اسمبلی الیکشن سے قبل ستمبر تک عام طور پر سمجھا جارہا تھا کہ این ڈی اے کا اقتدار بہ آسانی برقرار رہے گا کیوں کہ لالو یادو ہنوز جیل میں ہیں ، اوپندرا کشواہا کی آر ایل ایس پی مہاگٹھ بندھن سے علحدہ ہوچکی تھی اور تیجسوی یادو پر 2019 کی لوک سبھا چناؤ شکست کا بوجھ ظاہر طور پر نظر آرہا تھا ۔ یہ بھی سمجھا گیا کہ خاتون ووٹرس گٹھ بندھن کو ووٹ نہیں دیں گے کیوں کہ 1990 سے 2005تک آر جے ڈی کی حکمرانی سے وہ بدظن ہیں اور دوبارہ ’ جنگل راج ‘ نہیں چاہتے لیکن یہ باتیں درست ثابت نہیں ہوئی جس کا ثبوت تیجسوی زیر قیادت آر جے ڈی کو سب سے زیادہ 75 نشستیں ہیں ۔ان حالات میں بی جے پی ۔ جے ڈی یو بہت طاقتور اتحاد معلوم ہورہے تھے ۔ تاہم زمینی سطح پر نتیش کمار سے عوام کی مسلسل بڑھتی ناراضگی ، کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن میں مائیگرنٹ بہاری ورکرس سے بدترین برتاؤ ، بڑھتی شرح افراط زر ، بے روزگاری اور بڑے پیمانے پر کرپشن نے نتیش حکومت کو پسپا کیا ۔ اس درمیان تیجسوی کی انتخابی ریالی پر عوام کا غیر معمولی ردعمل حاصل ہوا ۔ وہیں سے تیجسوی اور گٹھ بندھن کے حوصلے بلند ہوئے اور بی جے پی ۔ جے ڈی یو کو اپنی حکمت عملی نظر ثانی کرنا پڑا ۔ گٹھ بندھن کو بائیں بازو کی جماعتوں بالخصوص سی پی آئی ( ایم ایل ) کے اتحاد سے بھی فائدہ ہوا ۔ چراغ پاسوان کی ایل جے پی نے جب 3 کے منجملہ پہلے مرحلے کی پولنگ میں جے ڈی یو کو بڑا نقصان پہونچایا اس کے بعد بی جے پی نے بقیہ دو مرحلوں میں چراغ پاسوان کو نتیش کمار کے خلاف اپنی مہم میں نرمی لانے پر مجبور کیا کیوں کہ وہ بدستور این ڈی اے کا حصہ ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ایم آئی ایم نے جارحانہ مہم شروع کی تھی اور بہار کے متذکرہ بالا کلیدی مسائل کو چھوڑ کر سی اے اے ، این آر سی جیسے غیر متعلقہ مسئلوں کے ذریعہ ووٹروں کو بھڑکایا ۔ اس کا سب سے زیادہ سیمانچل میں ظاہر ہوا جہاں سے ایم آئی ایم نے 5 نشستیں جیتے ۔ علاوہ ازیں ای وی ایم اور انتخابی عہدیداروں کی مشکوک سرگرمیوں کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس تعلق سے تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ شکایت بھی کی لیکن حالیہ برسوں میں آزاد جمہوری ادارے بھی عوام کی کہاں سن رہے ہیں ؟
