ریڈی میڈ گارمنٹس اور ٹیوشن پڑھانے والے آج خود کفیل بن گئے: محکمہ صنعت
پٹنہ، 8اگست (یو این آئی) بہار میں مکھیہ منتری یووا ادیمی یوجنا نہ صرف دیہی نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنا رہی ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار پیدا کرکے سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم رول ادا کررہی ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ صنعتکاری کی اسکیموں سے ضلع کے بہت سے نوجوانوں اور خواتین نے نہ صرف اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ دیگر لوگوں کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ضلع بانکا کی یہ متاثر کن مثالیں ریاست میں کاروباری ترقی کی ایک عمدہ علامت ہیں۔ با نکا کے رہنے والے منتوش کمار نے ریڈی میڈ گارمنٹس کا کاروبار شروع کیا اور اسے 10 لاکھ روپے کی مالی مدد سے آگے بڑھایا۔ آج وہ آٹھ لوگوں کو براہ راست روزگار دے رہے ہیں اور 20 خاندانوں کو روزگار فراہم کرا رہے ہیں۔ان کا کاروبار 50 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ اسی طرح مکیش پڑھے لکھے لیکن بے روزگار تھے اور بچوں کو ہوم ٹیوشن دیا کرتے تھے لیکن مکھیہ منتری یووا ادیمی یوجنا کے تحت انہیں 9 لاکھ روپے کی مالی مدد ملی، جس سے انہوں نے آئس کریم پروڈکشن یونٹ قائم کیا۔ آج وہ ایک کامیاب کاروباری ہیں اور آٹھ لوگوں کو ملازمت دے رہے ہیں۔ ان کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں ایک کمپنی کا مالک ہوں اور اس پر میں محکمہ صنعتکاری کا شکر گزار ہوں۔ رنجیت کمار سنگھ نے نوٹ بک بنانے کا کام شروع کیا۔ مکھیہ منتری یووا ادمی یوجنا سے حاصل ہونے والے 10 لاکھ روپے کی مدد سے انہوں نے اپنا یونٹ قائم کیا اور دو کنبوں کو باقاعدہ روزگار فراہم کیا۔ ان کا کاروبار بھی 10 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ یہ اسکیم خواتین میں خود انحصاری کی ایک نئی مثال بھی قائم کر رہی ہے ۔ بھاگیہ شری کو مکھیا منتری مہیلا ادمی یوجنا کے تحت 10 لاکھ روپے کی رقم ملی، جس سے انہوں نے بیکری پروڈکشن یونٹ قائم کیا۔ آج وہ آٹھ افراد کو روزگارفراہم کر رہی ہیں اور سات خاندانوں کی معاشی حالت کو مضبوط کر رہی ہے ۔ اسی طرح روبی دیوی نے پوہا/چورا کی پیداوار کے لیے 10 لاکھ روپے کی امداد حاصل کی اور اپنے کاروبار کے ذریعے آٹھ لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ ان کا سالانہ کاروبار 12 لاکھ روپے ہے اور وہ براہ راست پانچ خاندانوں کو ر وزگارفراہم کر رہی ہیں۔