بہار میں 2025 اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا

   

کئی قد آور سیاستدانوں کی کمی محسوس کی جائے گی جو ہوا کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے

پٹنہ، 19 اکتوبر (یو این آئی) سیاسی ہوا کا رخ بھانپنے اور ووٹروں کو اپنے حق میں متحد کرنے میں ماہر کئی قدآور سیاستدانوں کی کمی اس بار کے اسمبلی انتخابات میں شدت سے محسوس کی جائے گی۔ بہار میں اسمبلی انتخاب 2025 کے لیے انتخابی بگل بج چکا ہے ۔ چناؤ کو لے کر سیاسی جماعتیں انتخابی میدان سجا تو رہی ہیں، لیکن اس بار سیاست کے کئی ماہرین کی کمی کھل رہی ہے ۔ کئی قدآور سیاستدان اس بار کے اسمبلی انتخابات میں نظر نہیں آئیں گے ۔ سوشلسٹ سیاست کے ذریعے عوام کے درمیان الگ شناخت بنانے والے شرد یادو، بہار کی سیاست کے بھشم، کانگریسی رہنما سدانند سنگھ، بہار میں بی جے پی کا سب سے بڑا چہرہ سشیل کمار مودی، اور قدآور دلت رہنما رمئی رام یہ وہ سیاستدان تھے جن میں سیاسی ہوا کا رخ موڑنے کی صلاحیت تھی۔ یہ سیاستدان اپنی حکمت عملی سے سیاسی ہوا کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ حالیہ برسوں 2021 تا 2024 میں ان تمام رہنماؤں کے انتقال کے بعد بہار کی سیاست میں ایک عہد کا اختتام ہو گیا۔ اس بار انتخابی میدان میں ان سیاسی ماہرین کی کمی کھلے گی۔ سوشلسٹ سیاست کے ذریعے عوام کے درمیان الگ پہچان بنانے والے شرد یادو نے اپنا پہلا لوک سبھا انتخاب 1974 میں جبل پور سے جیتا تھا۔ اس وقت لوک نائک جے پرکاش نارائن عرف جے پی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ جبل پور انجینئرنگ کالج کے گولڈ میڈلسٹ رہے شرد یادو بھی اس تحریک سے وابستہ تھے ۔ اس وقت شرد یادو جبل پور یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر تھے ۔ جبل پور لوک سبھا نشست کانگریسی رہنما سیٹھ گووند داس کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی اور 1974 میں وہاں ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ جے پرکاش نارائن نے شرد یادو کو جبل پور ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے کہا۔ وہ تیار ہو گئے ۔ وہیں، کانگریس نے سیٹھ گووند داس کے بیٹے روی موہن داس کو ٹکٹ دیا۔ 27 سال کے نوجوان رہنما شرد یادو نے کانگریس کے قلعے جبل پور کومنہدم کردیا اور ضمنی انتخاب جیت کر پارلیمنٹ میں اپنی پہلا قدم رکھا اس کے بعد شرد یادو 1977 میں بھی جبل پور نشست سے جیتے ۔ شرد یادو 1986 میں پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے ۔ انہوں نے 1989 کے عام انتخابات میں اتر پردیش کی بدایوں سیٹ جیتی۔ بعد میں شرد یادو نے اتر پردیش چھوڑ کر بہار کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے لیے لوک سبھا انتخابی حلقہ مدھے پورہ چنا، جہاں یادو طبقہ اکثریت میں ہے ۔ وہاں یہ نعرہ مشہور ہوا تھا “روم پوپ کا، مدھے پورہ گوپ کا”۔