بہار میں80 فیصدفارم اپلوڈنگ کا دعویٰ فرضی

,

   

بغیر رضامندی کے ہی بھرے گئے فارم‘ تیجسوی یادو کا الیکشن کمیشن پر سنگین الزام

پٹنہ۔ 13؍جولائی ( ایجنسیز )بہار میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے متعلق ایک طرف جہاں الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 80.11 فیصد فارم اپلوڈ کیے جا چکے ہیں وہیں آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے اس وعدہ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ اعداد و شمار صرف تکنیکی اپلوڈنگ کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ درستگی، شفافیت اور ووٹرس کی حقیقی رضامندی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔تیجسوی یادو نے پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے فارم تصدیق شدہ، درست اور رضامندی کے ساتھ بھرے گئے ہیں۔ ہمیں مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بغیر ووٹرس کے معلومات اور رضامندی کے بی ایل او کے ذریعہ فرضی انگوٹھے کے نشانات یا دستخط کر کے فارم اپلوڈ کیے جا رہے ہیں۔بہار اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ 80 فیصد اپلوڈنگ کا اعداد و شمار زمینی سچائی سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اس نے ایسے فارم کی تعداد بتائی ہے جو بغیر دستاویز یا ووٹرس کی شراکت داری کے اپلوڈ کیے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بی ایل او اور ای آر او پر 50 فیصد سے زائد اپلوڈنگ کا ہدف زبردستی مسلط کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے زمینی سطح پر دھوکہ دہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ دستاویزات میں نرمی لانے کے مشورہ کے باوجود الیکشن کمیشن نے اب تک کوئی ترمیم شدہ نوٹیفیکیشن جاری نہییں کیا ہے۔تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بی ایل اے (بوتھ لیول ایجنٹ) کے کرد ار کو محض حاضری تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں اپوزیشن جماعتوں کے بی ایل اے کو مطلع تک نہیں کیا گیا اور انہیں عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن سے شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عمل سے جمہوریت کی بنیادی روح کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔بہار میں ووٹر لسٹ پر گہری نظر ثانی کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل اعتراص کیا جارہا ہے ۔ یہ مسئلہ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا اگر چہ سپریم کورٹ نے نظرثانی پر روک لگانے سے انکار کردیا لیکن عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ آدھار ‘راشن اور دیگر دستاویز کو شناخت کیلئے قبول کریں ۔اس کے باوجود الیکشن کمیشن کے اقدامات پر اپوزیشن نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔