بہار کے مدھوبنی میں مسلم روزہ دار خاتون کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا

,

   

انصاف کیلئے گاؤں کی مکھیا سے رجوع ہونے پر کھمبے سے باندھ کر پٹائی کی گئی

حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) بہار کے مدھوبنی ضلع میں ایک مسلم خاتون کو روزہ کے حالت میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ گوجھردیہا بلاک کے امہی گاؤں میں پیش آیا جب روشن خاتون گاؤں کی مکھیا کماری دیوی سے رجوع ہوئیں تاکہ ایک مقامی تنازعہ میں انصاف حاصل کیا جائے۔ مقامی تنازعہ میں روشن خاتون کے شوہر کے ملوث ہونے کے باعث خاتون گاؤں کی مکھیا سے رجوع ہوئیں جن کی شناخت کماری دیوی کی حیثیت سے ہوئی ہے لیکن کماری دیوی کے فرزند منو سنگھ نے اپنے ساتھیوں اور افراد خاندان کے ساتھ روشن خاتون کو بری طرح مار پیٹ کی۔ زخمی خاتون کو پٹنہ میڈیکل کالج میں شریک کیا گیا جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکیں۔ یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا جبکہ یکم مارچ کو خاتون کی موت واقع ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق روشن خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ایک کھمبے سے باندھ کر بری طرح مار پیٹ کی گئی جبکہ وہ اپنے روزہ دار ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مدد کی اپیل کررہی تھی۔ مقامی افراد نے گاؤں کی مکھیا اور اس کے فرزند منو سنگھ کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی میڈیا میں شائع شدہ خبروں کے مطابق حملے کے وقت روشن خاتون روزہ میں تھیں۔ اس نے حملے کے بعد ایک گلاس پانی دینے کی درخواست کی لیکن اسے مبینہ طور پر الکوہل اور پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا۔ پولیس نے اس دعوے کی ابھی تک توثیق نہیں کی ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات میں خاتون کے روزہ دار ہونے کا ثبوت ملا ہے۔ تاہم حملے کی تفصیلات کی جانچ کی جارہی ہے۔ روشن خاتون کے شوہر نے ہلاکت کے ذمہ داروں کو سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ منصوری کمیونٹی کے ریاستی صدر اجئے منصوری نے خاندان کو انصاف دلانے کی جدوجہد شروع کی ہے۔ پولیس نے واقعہ کے دوسرے دن ایف آئی آر درج کرتے ہوئے گاؤں کی مکھیا کے فرزند کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ دیگر حملہ آوروں کی شناخت جاری ہے۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ روشن خاتون کے ہلاکت کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ مقامی مسلمانوں اور جہد کاروں نے اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ 1