ممبئی، 14 نومبر (یو این آئی) مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج دراصل الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی “مہربانی” سے ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوگس ووٹنگ، ووٹوں کی چوری اور ایس آئی آر کے ذریعے مخالف ووٹروں کے ناموں کو فہرست سے ہٹانے کے باعث بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادیوں کو غیرمنصفانہ جیت ملی۔تلک بھون میں او بی سی شعبہ کے نو منتخب چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر یشپال بھینگے کی حلف برداری تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا، ”اگر ہم زندہ رہے تو ہم دوبارہ لڑیں گے ۔” ان کے بقول، بہار کے نتائج کے بعد حکمراں جماعت کی جانب سے اپوزیشن پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس تک عوام کو نظرانداز کرنے کے بعد انتخابات سے عین قبل خواتین کو 10 ہزار روپے دینے کی پیشکش کا اثر اگر کچھ ہوا بھی ہو تو یہ بحث کا موضوع ضرور بنے گا، لیکن سب سے بڑا سوال الیکشن کمیشن کے کردار کا ہے جو جمہوریت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اب حکمران جماعت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے ، اور ملک کو آج ٹی این سیشن جیسے دیانتدار الیکشن کمشنروں کی ضرورت ہے جو جمہوری اداروں کی حرمت بحال کر سکیں۔اس موقع پر سینئر لیڈر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بالا صاحب تھوراٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او بی سی طبقے میں چھوٹی ذاتوں تک رسائی ناگزیر ہے تاکہ تنظیمی بنیادوں کو مضبوط کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ مساوات ہی کانگریس اور آئین دونوں کا بنیادی اصول ہے ۔ “ہمارے بزرگوں اور اولیاء کرام نے جو اقدار ہمیں دی ہیں، وہی آئین میں درج ہیں،” تھوراٹ نے کہا۔انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے ، تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو جدوجہد کرتے ہیں۔ راہول گاندھی ملک، جمہوریت اور آئین کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اور ہمیں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا۔
