بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ سب کیلئے تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت

   

تلنگانہ میں آندھرا کے تعلیمی اداروں کا جال تو پھر آندھرا میں تلنگانہ کے کالجس کیوں نہیں؟ اے وردھا ریڈی چیرمین ایس آر گروپ کی سیاست نیوز سے بات چیت

ورنگل ۔ بہترین منصوبہ بندی اور سخت محنت کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ ان خیالات کا اظہار اے وردھا ریڈی چیرمین ایس آر گروپ آف انسٹی ٹیوشن و چانسلر ایس آر یونیورسٹی ورنگل نے ایم اے نعیم اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست ورنگل سے خصوصی ملاقات کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی علم کو اہمیت دیتا ہے اس کے سامنے نوکری چھوٹی بات بن جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے تعلیمی اداروں کی ایک دور میں طوطی بولتی تھی۔ وہ تلنگانہ کے عوام کو کم تعلیم یافتہ سمجھتے تھے لیکن اب وہ بات باقی نہیں رہی۔ 40 سال قبل ایس آر (سری راجیشوری) کے نام سے پھر ہنمکنڈہ میں گھر میں ایک ٹیٹوریل (ٹیوشن کلاس) سے اس سفر کا آغاز کیا جو آج ایک تناور درخت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ آندھرا پردیش کے کارپوریٹ اداروں نے تلنگانہ میں سینکڑوں کالجس کا جال بچھا دیا، جب آندھرا کے لوگ تلنگانہ میں کالج قائم کرسکتے ہیں تو ہم تلنگانہ کو بھی چاہئے کہ آندھرا میں کالج قائم کریں۔ اسی سوچ کے تحت میں نے وشاکھاپٹنم میں ایس آر جونیر کالج قائم کیا۔ میرے اس فیصلہ سے کے چندر شیکھر راؤ بانی ٹی آر ایس نے اس وقت مجھے مبارکبادی پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام ہر سمت ترقی کرسکتا ہے۔ یہ بہتر معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اولیائے طلبہ کی سوچ میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس نیت سے آگے بڑھنا ہے کہ ہم کو کچھ کر گذرنا ہے۔ دوسروں کے لئے بھی ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے قابل بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے چاہئے کہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سب کو فراہم ہوسکے۔ ایس آر گروپ آف انسٹی ٹیوشن چیرمین و چانسلر ایس آر یونیورسٹی نے ورنگل کے وردھنا پیٹ منڈل کے دیونا پیٹ گاؤں میں 1947 مارچ 12 کو غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے شوق کے سبب ورنگل شہر کا رخ کرنا پڑا۔ ہنمکنڈہ میں جونیر کالج کے قیام کے آغاز کے بعد سے تعلیمی اداروں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایس آر ہائی اسکول کے نام سے 1980 میں قائم کیا۔ سال 2002 میں انجینئرنگ کے بعد سال 2003 میں ڈگری کالج پھر فارمیسی کالجس قائم کیا۔ ایس آر ادارہ کے تحت 93 اسکولس اور کالجس قائم کئے ہیں جس میں 6170 اساتذہ و دیگر اسٹاف خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروںکی تعداد میں طلبہ و طالبات تعلیمی سفر کو جاری رکھا ہوا ہے۔ وردھا ریڈی نے کہا کہ زندگی میں کئی مالی مشکلات آتی ہیں لیکن ارادہ مصمم رہے تو حالات ساتھ دینے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچپن میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں تھے لیکن اساتذہ کی مدد اور والد کی ہمت نے مجھے تعلیم حاصل کرنے میں مدد حاصل رہی۔ اس وقت ایس آر اداروں میں کئی غریب بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کی فیس میں خصوصی رعایت دی جاتی ہے اور آج یہ ادارہ ترقی کرتے ہوئے ایک یونیورسٹی میں تبدیل ہوا ہے۔ انجینئرنگ کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ 2020 میں ایس آر یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔