غزہ سٹی : یکم جنوری (ایجنسیز ) 2025 کے اختتام پر غزہ کے رہائشی نئے سال کا استقبال خوشی سے نہیں بلکہ تھکن، غم اور اس امید کے ساتھ کر رہے ہیں کہ شاید ان کا ’ڈراؤنا خوب‘ اب ختم ہو جائے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تباہ حال علاقے میں زندگی بقا کی جدوجہد بن چکی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے، بجلی نایاب اور لاکھوں لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، کیونکہ اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی دو سالہ لڑائی نے انہیں بار بار بے گھر کیا۔حنا ابو عمرا نے کہا کہ ’ہم غزہ پٹی میں ایک لامتناہی خوفناک خواب میں جی رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خواب 2026 میں ختم ہو جائے، ہم کم از کم یہ چاہتے ہیں کہ بجلی بحال ہو، سڑکیں معمول پر آئیں اور خیمے ختم ہوں۔‘گذشتہ سال نے غزہ کے عوام کو نقصان اور خوف دیا۔ شیریں الکیالی نے کہاکہ ’ہم 2025 کو گہرے دکھ کے ساتھ الوداع کہتے ہیں۔ ہم نے اپنے لوگ اور سامان کھو دیا، بمباری اور دہشت کے سائے میں ایک شہر سے دوسرے شہر بے گھر ہوتے رہے۔‘یہ تجربہ بے شمار غزہ کے باشندوں کا ہے جنہیں بار بار فرار ہونا پڑا، اکثر بغیر اطلاع کے، اور صرف ضروری سامان ساتھ لے جا سکے۔ پورے خاندان اجڑ گئے، روزگار ختم ہو گیا، کمیونٹیز بکھر گئیں۔تباہی کے باوجود کچھ لوگ امید سے جڑے ہیں کہ نیا سال لڑائی کے خاتمے اور تعمیرِ نو کا موقع لائے گا۔ امید اب مزاحمت کا عمل بن چکی ہے، خاص طور پر 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد جس نے لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا۔
