بہروں کا علاقہ ہے ذرا زور سے بولو

   

Ferty9 Clinic

مودی کے 75 سال … امیت شاہ کو غصہ کیوں آیا
شاہ رخ خاں دیش دروہی … پاکستان سے کرکٹ کھیلنے والے کیا ہیں؟

رشیدالدین
نشہ یوں تو کئی اقسام کا ہوتا ہے لیکن ان میں زیادہ خطرناک اقتدار اور کرسی کا نشہ ہے۔ اقتدار اگرچہ کسی کا بھی مستقل نہیں ہوتا لیکن عہدہ اور کرسی پر فائز افراد اسے دائمی سمجھنے لگتے ہیں۔ انہی لوگوں میں مودی ۔ امیت شاہ جوڑی کا شمار ہوتا ہے ۔ نریندر مودی تو وہ ہیں جن سے کوئی عام آدمی تو کیا صحافی بھی سوال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ نریندر مودی نے جو کہہ دیا بس اسے رپورٹ کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں وزیراعظم کی حیثیت سے مودی نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔ دوسری طرف بی جے پی کے چانکیہ اور نریندر مودی کے وزیر باتدبیر امیت شاہ ہیں جو میڈیا اور ان کے سوالات کا سامنا تو کرتے ہیں لیکن جواب وہی ہوتا ہے جو وہ چاہیں۔ ہندوستان اگرچہ جمہوری ملک ہے لیکن ان کے رویہ سے بسا اوقات ڈکٹیٹرشپ کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ ویسے بھی بی جے پی حکومت نے دستور، جمہوریت اور سیکولرازم کو طاق پر رکھ دیا ہے اور ہندو راشٹر کے راستہ پر ملک کو گامزن کردیا گیا۔ امیت شاہ گزشتہ دنوں مغربی بنگال میں تھے، پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے کہا کہ 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ 75 سال کی عمر کے افراد سرگرم سیاست سے سبکدوش ہوکر مارگ درشک منڈل میں شامل کردیئے جائیں گے کیا موجودہ حکومت میں 75 سال کی تکمیل کرنے والوں کو بھی مارگ درشک منڈل میں جانا چاہئے ؟ ظاہر ہے کہ صحافی کا اشارہ نریندر مودی کی طرف تھا جو کہ عمر کے 75 ویں سال میں قدم رکھ چکے ہیں۔ سوال پر امیت شاہ کے چہرہ کا رنگ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے صحافی سے کہا کہ میں تم کو بلاکر بتاؤں گا۔ امیت شاہ اس پر خاموش نہیں ہوئے اور مزید کہا کہ ’’تم بنگال کی فکر کرو بھیا ، میری پارٹی کی فکر کیوں کر رہے ہو‘‘۔ مودی کے 75 سال کے بارے میں پوچھنے پر امیت شاہ کی بوکھلاہٹ باعث حیرت ہے کیونکہ بی جے پی نے یہ اصول بنایا تھا جس کے تحت ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، سمترا مہاجن اور دیگر کئی قائدین کو گھر کا راستہ دکھادیا گیا۔ سیدھے سوال پر برہم ہونے کی ضرورت نہیں تھی لیکن صحافی نے امیت شاہ کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی تھی۔ امیت شاہ کہہ سکتے تھے کہ یہ قاعدہ نریندر مودی پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ مودی کے بغیر حکومت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ سچ اور حق بات کرنے میں گھبراہٹ کیوں ؟ صحافی پر ناراض ہونے سے مودی کی عمر 75 سے گھٹ کر 74 تو نہیں ہونے والی۔ امیت شاہ نہیں بلکہ ان کا غرور اور تکبر بول رہا تھا۔ 12 برسوں کے اقتدار نے مودی ۔ امیت شاہ کو پارٹی اور حکومت میں ناقابل چیلنج بنادیا ہے۔ امیت شاہ کہہ دیا کہ میری پارٹی کی فکر نہ کریں لیکن ان سے کوئی پوچھ لے کہ جب 75 سال کا معاملہ عوام کا نہیں بلکہ پارٹی کا ہے تو پھر کانگریس کے اندرونی معاملات میں بی جے پی اپنی ٹانگ کیوں اڑاتی ہے؟ کانگریس اور دوسری پارٹیوں کے معاملات میں جب بی جے پی کو مداخلت کا حق ہے تو پھر 75 سال کا سوال تو عوامی ہے۔ جواب نہیں دینا تھا تو دوسرا انداز بھی تھا لیکن صحافی کی سرزنش کرنا کہاں تک جائز ہے ۔ جب دوسروں کے معاملات کی فکر نہیں کرنی چاہئے تو پھر امیت شاہ مغربی بنگال میں کیا کر رہے تھے۔ انہیں بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کی فکر کرنی چاہئے ۔ بنگال کے حالات کے لئے ممتا بنرجی کافی ہیں۔ ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ کے مصداق امیت شاہ اور بی جے پی کے دوسرے قائدین ہر معاملہ میں مداخلت کرتے ہیں تو پھر دوسروں کو بھی پوچھنے کا حق بنتا ہے۔ آر ایس ایس جو 10 سال قبل تک بی جے پی پر کنٹرول کے موقف میں تھی، آج کمزور پڑچکی ہے۔ ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھ سے نکل کر مودی ۔ امیت شاہ کے ہاتھ آچکا ہے ۔ آر ا یس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ 75 سال کے قائدین کو ہٹ کر نوجوانوں کو مو قع دینا چاہئے ۔ بھاگوت بھی 75 سال کے ہوچکے ہیں اور نہ صرف وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہے بلکہ نریندر مودی کو بھی کلین چٹ دے دی ۔ بی جے پی ہو کہ سنگھ پریوار نریندر مودی کا معاملہ آجائے تو کوئی قاعدہ اور قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ملک پر ترنگا کے بجائے بھگوا پرچم لہرانے کے لئے بی جے پی کو مغربی بنگال ، کیرالا اور ٹاملناڈو میں اقتدار کا انتظار ہے۔ کانگریس کا اقتدار کرنا ٹک ، تلنگانہ اور ہماچل پردیش تک سمٹ کر رہ گیا ہے ۔ بی جے پی نے ابتداء میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب الیکشن کمیشن کے ذریعہ SIR کا نیا ہتھیار ہاتھ لگ چکا ہے ۔ بہار میں کامیاب تجربہ کے بعد مغربی بنگال اگلا نشانہ ہے۔ اقتدار کو مستحکم کرنے اور ہندو ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کیلئے نفرتی عناصر اور جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ بجرنگ دل ، وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کی مخالف مسلم و عیسائی سرگرمیوں سے دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی ہورہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب بنارس میں جاپان کے سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور حملہ کیا گیا ۔ محض اس لئے کہ وہ کرسمس ٹوپی پہن کر گنگا میں اشنان کرنا چاہتے تھے ۔ یہاں نفرت جاپان سے نہیں بلکہ عیسائیت سے تھی لیکن مودی نے اپنے حلقہ میں پیش آئے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار تک نہیں کیا۔ عالمی میڈیا میں جاپانی سیاحوں کی توہین کا ویڈیو اور خبر خوب وائرل کی گئی۔ نفرتی عناصر نے مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں پر حملوں کو تیز کردیا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں گرجا گھروں پر حملے کرتے ہوئے کرسمس تقاریب میں توڑ پھوڑ کی گئی ۔ ایک عیسائی پادری کو ہندوتوا کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ کرسمس تقاریب میں ہنگامہ آرائی میں دنیا بھر میں ہندوستان اور مودی حکومت کا نام روشن کیا ہے ۔ جو حکومت اپنے ملک میں اقلیتوں کا تحفظ نہیں کرسکتی ، اسے دوسرے ممالک میں اقلیتوں پر مظالم کے بارے میں سوال کرنے کا حق نہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ تشدد اور ہلاکتوں کی ہرگز تائید نہیں کی جاسکتی لیکن ان ممالک پر تنقید سے قبل ہندوستان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ یہاں اقلیتیں کس حد تک محفوظ ہیں۔
شاہ رخ خاں پھر ایک بار دیش دروہی ہوگئے۔ ہندوتوا طاقتوں نے سابق میں بھی جب کبھی شاہ رخ خاں نے انسانیت اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی ، انہیں دیش دروہی کہا گیا۔ تازہ ترین معاملہ میں پھر ایک مرتبہ بالی ووڈ کے بادشاہ کو دیش دروہی محض اس لئے کہا گیا کیونکہ آئی پی ایل میں ان کی ٹیم KKR میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی شامل ہے۔ شاہ رخ خاں فلموں میں جس طرح نیا نیا کردار ادا کرتے ہیں ، ان کے لئے دیش دروہی کا الزام بھی کسی نئے کردار سے کم نہیں ۔ بی جے پی اور ان کے حواریوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے پس منظر میں شاہ رخ خاں کی ٹیم KKR میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت مذمت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوؤں پر مظالم کے ذمہ دار ملک کے کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرتے ہوئے شاہ رخ خاں نے ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنگلہ دیشی کھلاڑی کو دی جانے والی رقم ہندوؤں پر مظالم کیلئے خرچ کی جاسکتی ہے۔ بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت کے بارے میں سوال کرنے والے پہلے نریندر مودی اور امیت شاہ سے سوال کریں کہ انہوں نے آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ حکومت نے جب کھیلنے کی اجازت دی تو پھر کوئی بھی ٹیم کھلاڑیوں پر بولی لگاکر خرید سکتی ہے۔ ویسے بھی آئی پی ایل کی دیگر ٹیموں میں بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی ہوسکتے ہیں لیکن ہندوتوا طاقتوں کو صرف شاہ رخ خاں پر اعتراض اس لئے بھی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ آئی پی ایل کی دوسری ٹیموں میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی موجودگی پر ان کے مالکین کو دیش دروہی کیوں نہیں کہا جاتا۔ یہاں نفرت بنگلہ دیش کے نام پر مسلمانوں سے ہے جس کے لئے شاہ رخ خاں کو نشانہ بنایا گیا ۔ دیش بھکت اور دیش دروہی کا امتحان ایشیاء کپ کے دوران بھی ہوا تھا جب پہلگام میں 26 ہندوستانیوں کو ہلاک کرنے کے ذمہ دار پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ ملک کے 140 کروڑ عوام نے ایک آواز ہوکر ایشیاء کپ میں پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے کی مخالفت کی تھی لیکن مودی اور امیت شاہ جیسے دیش بھکت اس لئے خاموش ہوگئے کیونکہ امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ نے پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ساری قوم کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر جب پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے والے دیش دروہی نہیں ہیں تو پھر شاہ رخ خاں پر یہ الزام کیوں؟ ایشیاء کپ میں پاکستان کے ساتھ مقابلہ پر بی جے پی اور سنگھ پریوار کی زبان بند ہوچکی تھی۔ ویسے بھی نریندر مودی نے نواز شریف کی سالگرہ میں بن بلائے مہمان کے طور پر شرکت کی تھی۔ شاہ رخ خاں کو ملک دشمن قرار دینے والے شائد بھول رہے ہیں کہ جس ملک میں ہندوؤں پر مظالم ہورہے ہیں، اس ملک سے فرار سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو ہندوستان نے سیاسی پناہ دے رکھی ہے اور ان کی مہمان نوازی کی جارہی ہے ۔ شائد انہی حالات پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا ؎
جو طور ہے دنیا اسی طور سے بولو
بہروں کا علاقہ ہے ذرا زور سے بولو