ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر کی بے حرمتی کے خلاف یادداشت قبول نہ کرنے کی مذمت، ڈپٹی کمشنر سے نمائندگی
بیدر۔بھارت رتن باباصاحب ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر کی بے حرمتی کاکام جج کرتے ہیں اور جب اس سے متعلق احتجاج کرتے ہوئے میمورنڈم دیاجاتاہے تومیمورنڈم کو تحصیلدار قبول نہیں کرتے ۔ ان دوطریقوں کودیکھتے ہوئے محسوس ہوتاہے کہ آج ڈیموکریسی کو خطرہ ہے۔اس خطرے کی مخالفت کرنے پر بہوجن سماج پارٹی کے ہمارے ریاستی قائد انکش گوکھلے ،اورضلع صدر جمیل احمد خان، مسٹر دتو اور دیگر کو گرفتار کیاجاتاہے۔ ہماری ضلع انتظامیہ سے اپیل ہے کہ گرفتاری کا فیصلہ یکطرفہ نہ ہو۔ہمناآباد تحصیلدارکوبھی فوراً گرفتارکیاجائے۔ یہ مطالبہ بہوجن سماج کے قائد دتو سوریہ ونشی نے کیا۔ وہ آج بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی جلوس میںبیدر کے ڈپٹی کمشنر دفتر میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیوکمار شیلونت کے سامنے خطاب کررہے تھے۔ دلت قائد جناب ماروتی بودھے نے اپنے مختصر لیکن دانشورانہ خطاب میں کہاکہ ہمناآباد میں تحصیلدار سے توتو میں میں کاجو واقعہ پیش آیا، وہ دراصل یوں ہے کہ تحصیلدار دفتر میں موجود تھے لیکن بہوجن سماج پارٹی کے میمورنڈم کو لینے انھوں نے ایف ڈی سی کو بھیجا ۔ دفتر میں جب تحصیلدار ہیں تو وہ میمورنڈم لینے کیوں نہیں آئے۔ ؟اس بات پران لوگوں نے وہیں دھرنا دے دیا اور جب بات آگے بڑھی تو مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا۔ تحصیلدار کو دواخانہ میں شریک کیاگیا جب کہ انھیں کو ئی زخم نہیں آیااور پارٹی کے لوگوں کو پہلے ہی اریسٹ کرلیاگیا۔ماروتی بودھے نے کہاکہ ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کو ایک نظر سے دیکھے اور انصاف کرے۔ لہٰذ امیری اپیل ہے کہ بی رپورٹ دے کر گرفتار کئے گئے دلت اور مسلم قائدین کو فوری رہا کیاجائے۔ میں سمجھتاہوں کہ رائچور جج کی باباصاحب امبیڈکر کی تصویر ہٹانے کی26؍جنوری کی جج کی حرکت اور 28؍جنوری کو میمورنڈم وصول کرنے نہ آنے کاتحصیلدار کارویہ بتاتاہے کہ یہ حکومت منووادی نیتی پر عمل کررہی ہے۔ اس کی جانچ ہونی چاہیے ۔ اس احتجاج میں بہوجن سماج پارٹی کے مذکورہ افراد کے علاوہ غالب ہاشمی ، مہیش گورنالکر ، سرفرازہاشمی ایڈوکیٹ ،شیخ انصار ریگل اور دیگردلت قائدین موجودتھے۔ پولیس کا معقول بندوبست دیکھاگیا۔