بیدر میں ایم ایل سی نشست بچانے میں کانگریس کامیاب

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر کی انتخابی مہم بی جے پی کو کام نہیں آئی ، جنتادل ایس کی ضمانت ضبط ، عام آدمی پارٹی پر جھاڑو پھرگیا

بیدر : مقامی ادارہ جات کے زمرے کے تحت ریاست کرناٹک میں 25نشستوں پر 10؍ڈسمبر کوہوئے رکن قانون سازکونسل (ایم ایل سی) کے انتخابات کے آج 14؍ڈسمبر کو نتائج سامنے آگئے۔ بیدر کی سیٹ پر کانگریس کے امیدوار بھیم راؤ پاٹل نے اپنی جیت درج کرائی ہے۔ انھیں 1789ووٹ ملے جبکہ ان کے قریبی حریف بی جے پی کے پرکاش کھنڈرے کو 1562ووٹ ملے۔ اس طرح بھیم راؤ پاٹل نے 227ووٹوں کے نمایاں فرق سے کامیابی حاصل کرلی۔ بھیم راؤ پاٹل پہلی دفعہ ریاستی قانون سازکونسل میں داخل ہوں گے جہاں ان کے استقبال کیلئے ان کے ایک اور بھائی ڈاکٹر چندرشیکھر پہلے سے موجودہوں گے ۔ اور جب کبھی کونسل اور اسمبلی کامشترکہ اجلاس ہوگا تو اسمبلی میں ان کے بڑے بھائی راج شیکھرپاٹل موجودرہیں گے اور تینوں بھائیوں کو ایک ساتھ مشترکہ اجلاس سننے کاموقع حاصل رہے گا۔ ۔ ایک ہی گھر سے تین افراد منتخب ہوکر اسمبلی اور کونسل پہنچنا بیدرضلع میں پہلی دفعہ ہونے جارہا ہے۔ قانون سازکونسل کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کے جن منتخبہ عوامی نمائندوں نے انتخابی مہم چلائی ان میں ایشور کھنڈرے کارگذار صدر کے پی سی سی اور رکن اسمبلی بھالکی،پارٹی کے دیگر اراکین اسمبلی میں جناب رحیم خان، راج شیکھر پاٹل، ایم ایل سیز میں وجے سنگھ ، ڈاکٹر چندرشیکھرپاٹل ، اوراروندکمارارلی شامل رہے۔بیرون سے انتخابی مہم میں حصہ لینے والوں میں سب سے بڑا نام ملیکارجن کھرگے لیڈر اپوزیشن برائے راجیہ سبھا کارہا۔پارٹی قائدین میں بسواراج جابشٹی صدر ضلع کانگریس ، دتاتریہ مولگے جنرل سکریڑی، اشوک کھینی سابق رکن اسمبلی ، چندراسنگھ ، فیروزخان سابق رکن ضلع پنچایت ،کریم صاحب کمٹھانہ ،میناکشی سنگرام،مالا بی نارائن، افروز خان سابق رکن ضلع پنچایت ، نورالدین مستان ، عزیزخان ،میر تحسین علی جمعدار، اظہر علی نورنگ ، افسرمیاں ، اور دیگر کی کوشش وکاوش نے کانگریس کو جیت سے ہمکنارکیا۔ دوسری جانب مرکزی وزیر بھگونت کھوبا، اور ریاستی وزیر وضلع انچارج مسٹر پربھوچوہان ، بسواکلیان ایم ایل اے شرنوسلگر، ڈاکٹر شیلندربیلداڑے ، سبھاش کلور، بابووالی، ایشور سنگھ ٹھاکر ، ریون سدپا جلادھے ، شیوانند منٹھالکر ، رؤف الدین کچہری والے چیرمین کرناٹکا ریاستی حج کمیٹی ، الیاس مہدی وغیرہ کے ہوتے ہوئے بھی پرکاش کھنڈرے کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ ریاستی اور مرکز ی وزیر ہی نہیں بلکہ دیگر وزراء اور وزیراعلیٰ کرناٹک بسواراج بومائی نے بھی بیدر میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ جس کاکوئی اثر رائے دہندگان پر نہیں پڑا۔ ایم ایل سی اروندکمارارلی کے مطابق بی جے پی کے حامی ووٹرس نے بھی کانگریس کو ووٹ ڈالاہے تاکہ ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوسکے۔ موجودہ انتخابات بیلٹ پیپر پر ہوئے ، ای وی ایم (مشین) استعمال نہیں کی گئی تھی۔ اس کے باوجود 84ووٹ مسترد ہوئے یہ وہ ووٹ ہیں جو منتخبہ عوامی نمائندوں نے ڈالا ہے ۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کامسترد ہونا منتخبہ عوامی نمائندوں کی لیاقت پر سوال کھڑے کرتاہے۔ مذکورہ دونوں پارٹیوں کے علاوہ عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بھی اپناامیدوار کھڑا کیاتھا لیکن عام آدمی پارٹی پر جھاڑو پھر گئی۔ اس کے امیدوارگووندراؤ سوریہ ونشی نے صرف 15ووٹ حاصل کئے اوراپنی ضمانت ضبط کربیٹھے۔ جنتادل (یس) نے اپناامیدوار کھڑا نہیں کیاتھا۔اسلئے یہ خیال پختہ ہوجاتاہے کہ بیدر ضلع میں جنتادل (یس) کے ووٹ بی جے پی کی طرف نہیں بلکہ کانگریس کی طرف گئے ہیں۔ اور جنتادل یس اورکانگریس کااتحاد ہی بی جے پی کو اقتدار حاصل کرنے سے روک سکتاہے۔جس کادوسرامطلب یہ ہواکہ سیکولر طاقتوں کااتحاد ہی زعفرانی ہوا کی ہوا نکال سکتاہے۔ واضح رہے کہ جملہ ووٹ 3456 تھے جن میں سے 3450ووٹ ڈالے گئے تھے۔