بیروزگار نوجوانوں کا شہیدان تلنگانہ کی یادگار پر احتجاج

   

قائدین کی گرفتاری، چھ برسوں میں بیروزگاری شرح میں اضافہ
حیدرآباد۔ 5 جون (سیاست نیوز) گزیٹیڈ ملازمین کی خدمات میں توسیع کے خلاف بیروزگار نوجوانوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے آج بطور احتجاج شہیدان تلنگانہ کی یادگار واقع گن پارک پہنچ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین کے مانوتا رائے اور عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی کے قائدین کے پرتاپ ریڈی اور ایم بھکو نائک کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے سیف آباد پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ یہ قائدین حالیہ عرصہ میں بعض گزیٹیڈ این جی اوز قائدین کے رشتہ داروں کو سرکاری ملازمت کی خدمات میں توسیع دیئے جانے پر احتجاج کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت ملازمین کے قائدین کو خوش کررہی ہے۔ ایک طرف پی آر سی، عبوری راحت اور مہنگائی بھتہ ادا نہیں کیا گیا تو دوسری طرف ملازمین کے قائدین کو خوش کرنے کے لیے ان کے رشتہ داروں کو وظیفہ کے باوجود خدمات میں توسیع دی گئی۔ حکومت کا یہ اقدام ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خدمات میں توسیع کے احکامات سے فوری دستبرداری اختیار کرے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار کا تیقن دیا گیا تھا لیکن گزشتہ چھ برسوں میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ جے اے سی نے تمام سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کا مطالبہ کیا۔