بیروزگار نوجوانوں کی خود کشی کیلئے چیف منسٹر ذمہ دار، ضلع راجنا سرسلہ میں شرمیلا کی بھوک ہڑتال

   

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : سربراہ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی شرمیلا نے کہا کہ ملازمتوں کے لیے حاصل کردہ علحدہ تلنگانہ ریاست میں دوبارہ خود کشیاں شروع ہوچکی ہیں جس کے لیے چیف منسٹر کے سی آر ذمہ دار ہیں ۔ ضلع راجنا سرسلہ کے کوناراؤ پیٹ منڈل کے گولہ پلے موضع میں شرمیلا نے آج بیروزگاری کے خلاف ایک روزہ احتجاجی بھوک ہڑتالی دھرنا منظم کیا ۔ قبل از شرمیلا نے خود کشی کرنے والے مہیندر یادو کے ارکان خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پرسہ دیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں اہم موضوع روزگار تھا تاہم علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر نے روزگار فراہم کرنے کے وعدے کو فراموش کردیا جس سے دل برداشتہ ہو کر بیروزگار نوجوان خود کشی کررہے ہیں ۔ طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی خود کشیوں کے لیے چیف منسٹر پوری طرح ذمہ دار ہیں ۔ تلنگانہ کی تحریک میں طلبہ اور نوجوانوں نے اہم ذمہ داری نبھائی ہے ۔ لیکن چیف منسٹر بننے کے بعد کے سی آر نے انہیں نظر انداز کردیا ۔ سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اپنے دور اقتدار میں ملازمتوں پر تقررات کے لیے تین مرتبہ نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا ۔ کے سی آر نے کتنی مرتبہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے ۔ اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسانوں کے قرض معاف نہیں کئے گئے ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں ہوئی ۔ تلنگانہ تحریک میں 1200 افراد نے خود کشی کی ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بھی خود کشیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ نئے پنشن جاری نہیں کئے گئے ۔ ملازمتوں کے لیے 54 لاکھ نوجوانوں نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ بیروزگاری بھتہ کے وعدے کو فراموش کردیا گیا ہے ۔۔