بیرونی تبلیغی ارکان کے ویزا موقف کی حکومت وضاحت کرے: سپریم کورٹ

   

Ferty9 Clinic

اگر ویزے منسوخ ہوگئے تھے تو پھر وہ ہنوز ہندوستان میں کیوں ہیں؟ عدالت کا استفسار، 2 جولائی کو اگلی سماعت

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت سے دریافت کیاکہ اگر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرونی ممالک کے ارکان نے مارچ کے وسط میں دہلی میں جماعت کے اجتماع میں شرکت کی تھی اور اُن کا ویزا منسوخ ہوگیا تھا، تو پھر وہ ہندوستان میں کیوں ہیں؟ حکومت کو اُنھیں واپس اُن کے ممالک کو بھیج دینا چاہئے تھا۔ عدالت عظمیٰ نے وزارت داخلی اُمور سے بھی 35 ممالک سے تعلق رکھنے والے 2500 شہریوں کے ویزا کے موقف سے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کے علاوہ جسٹس سنجیو کھنہ پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے تبلیغی جماعت کے بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے ارکان کی اپیلوں کی آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سماعت کی جنھیں 10 برسوں کے لئے بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے بیرونی شہریوں نے حکومت کے اِس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ عدالت عظمیٰ نے اِس کیس کی آئندہ سماعت 2 جولائی کو مقرر کی ہے۔ عدالت نے حکومت کے وکیل سے کہاکہ آیا حکومت کی جانب سے ویزا کی منسوخی اور اُنھیں بلیک لسٹ کرنے سے متعلق احکام انفرادی طور پر بھیجے گئے تھے یا عام ہدایت دی گئی تھی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے یہ استدلال پیش کیاکہ درخواست گذاروں کی درخواست کی نقول اُنھیں حاصل نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لئے عدالت سے وقت طلب کیا ہے۔ درخواست گذاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل سی یو سنگھ نے عدالت سے کہاکہ بلیک لسٹ کرنے کا حکم 900 افراد کے لئے جنرل نوٹس کی طرح تھا۔ تبلیغی جماعت کے بیرونی ارکان کے ممالک کی جانب سے اُنھیں واپس آنے کے لئے کہا جارہا تھا۔ سفارت خانوں کی جانب سے بھی یہی مشورہ دیا جارہا تھا۔ عدالت نے یہ محسوس کیاکہ مرکزی وزارت داخلی اُمور کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ انفرادی بنیاد پر ریاستی حکام کی جانب سے فیصلہ لیا جانا چاہئے۔ عدالت نے کہاکہ اگر ویزے منسوخ ہوگئے تھے تو پھر اِس کی وضاحت ضروری ہے کہ کیوں تبلیغی جماعت کے بیرونی ارکان ہنوز ہندوستان میں ہیں اور اگر ویزے منسوخ نہیں ہوئے ہیں تو پھر صورتحال مختلف ہے۔ عدالت نے اِس مسئلہ پر مرکزی حکومت سے بیان جاری کرنے کے لئے کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 26 جون کو تبلیغی جماعت کے بیرونی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی درخواست کی نقول مرکزی حکومت کو روانہ کرے جس میں انھوں نے مبینہ طور پر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے پر وزارت داخلی اُمور کی جانب سے اُنھیں بلیک لسٹ کرنے کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ 30 سے زائد درخواست گذاروں نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر بتایا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ریاستی انتظامیہ نے اُن کے پاسپورٹ ضبط کرلئے ہیں جس کے نتیجہ میں اُن کی شخصی آزادی ختم ہوگئی ہے۔ جبکہ اِس سلسلہ میں قانون کے تحت طریقہ کار پر عمل بھی نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جینے اور آزادی کے حق کے بغیر دوسرے حقوق سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔