بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں تلنگانہ و آندھراپردیش ریاستیں بری طرح ناکام

   

حیدرآباد ۔ 4 ستمبر (سیاست نیوز) بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں دونوں تلگو ریاستیں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔ بنیادی سہولیات اور بہترین ماحول فراہم کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کے دعوے حکومتوں کے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) کے حصول میں تلنگانہ و آندھراپردیش ریاستیں پیچے ہوگئے ہیں۔ مرکزی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ڈپارٹمنٹ فار پرموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی مطابق سال 2020 اپریل تا مارچ 2021 کے درمیان ملک میں 4,42,568.85 کروڑ بیرونی سرمایہ داری ہوئی ہے جس میں تلنگانہ میں 1.94 فیصد اور آندھراپردیش میں 0.14 فیصد حصہ حاصل ہوا ہے۔ جھارکھنڈ سے تلنگانہ کسی قدر آگے جبکہ آندھراپردیش بہار سے کسی قدر آگے رہا۔ ملک میں کی گئی بیرونی سرمایہ کاری میں 63.84 فیصد گجرات اور مہاراشٹرا میں کی گئی ہے۔ اس خصوص میں وزیراعظم کی ریاست میں 36.79 فیصد سے مہاراشٹرا کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ مرکزی محکمہ نے اکٹوبر 2019ء تک آر بی آئی کے مقامی دفاتر کے لحاظ سے ایف ڈی آئی کی تفصیلات کو جاری کیا جس کے بعد سے ریاستی سطح پر جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا جارہا ہے۔ اپریل 2000 تا ستمبر 2019ء تک آندھراپردیش کو (1,09,824) کروڑ بیرونی سرمایہ داری فارن ڈائرکٹ انیوسمنٹ حاصل ہوا۔ سال 2019 سے مارچ 2021ء تک آندھراپردیش اور تلنگانہ ریاستوں کو ملا کر 15,596.71 کروڑ ہی حاصل ہوا۔ ملک کی دیگر بڑی ریاستوں کے مقابل ایف ڈی آئی میں ریاست تلنگانہ کو 7 واں اور آندھراپردیش کو 15 واں مقام حاصل ہوا جبکہ اکٹوبر 2019ء سے جاریہ سال مارچ 31 تک ایف ڈی آئی کے زمرے میں تلنگانہ 8 اور آندھراپردیش 13 ویں مقام پر ہے۔ بڑی ریاستوں میں آندھراپردیش کے بعد بہار، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میگھالیہ ریاست شامل ہے۔ ڈی پی آئی آئی ٹی ڈیٹا کے مطابق اپریل 2020ء تا اپریل 2021ء تک ایف ڈی آئی حاصل کرنے والی ریاستوں میں گجرات 1,62,830.45، مہاراشٹرا 1,19,733.85، کرناٹک 56,884.97، دہلی 40,464.34، تمل ناڈو 17,208.42، ہریانہ 12,559.41، تلنگانہ 8,617.71، جھارکھنڈ 5,992.57، پنجاب 4,719.45، یوپی 3,123.45، مغربی بنگال 3,114.65، راجستھان 2,015,38، کیرالا 1,581.00، ایم پی 1,544.08، اے پی 638.72، بہار، 332,00، اوڈیشہ 146.18 شامل ہیں۔ A