بیرونی ممالک میں ہندی کی تدریس:مسائل اور حل کے عنوان پر ورکشاپ منعقد

   

علی گڑھ، 11/اگست(سیاست ڈاٹ کام) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہئ ہندی کے زیر اہتمام بیرون ممالک ہندی کی تدریس: مسائل اور حل موضوع پر ایک روزہ ورکشا کا انعقاد عمل میں آیا جس میں یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ ہندی یونیورس فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر اور معروف ادیب پروفیسر پُشپِتا اوستھی نے کلیدی خطبہ پیش کیا جب کہ شعبہ کے سربراہ پروفیسر عبد العلیم نے پروگرام کی صدارت کی۔ ورکشاپ کے افتتاحی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اختر حسیب نے عالم کاری کے اس دور میں ملک و بیرون ملک ہندی کی تدریس و تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مہمان مقرر پروفیسر پُشپِتا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور بیرون ملک ہندی کے فروغ کے لیے ان کا ادارہ جو خدمات انجام دے رہا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شعبہ ہندی قدیم ترین شعبوں میں ہے اوریہاں کے اساتذہ نے ہندی زبان و ادب کی قابل ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ ہندی زبان کی ترقی میں آئندہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہے گا۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر پُشپِتا اوستھی نے عالمی سطح پر ہندی کی تدریس سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے حل کے لیے کی گئی کوششوں سے متعارف کرایا۔اے ایم یو کے شعبہ ہندی کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کو نشان زد کرتے ہوئے انہوں نے اسے ہندی زبان کا قلب قرار دیا۔
پروفیسر اوستھی نے بیرون ملک ہندی کی تدریس سے متعلق اپنے تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ہندی زبان کی تدریس کے بڑے مواقع ہیں اور پوری دنیا میں ہندوستانی زبان و ثقافت کے تعلق سے زبردست دلچسپی پائی جاتی ہے ۔
اپنے صدارتی خطبہ میں شعبہ کے سربراہ پروفیسر عبد العلیم نے عالمی سطح پر ہندوستانی زبان و ثقافت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو قابل اطمینان قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپ بیروبن ممالک ہندی زبان و ادب کی تدریس وتعلیم کے مواقع کو خاطر نشان کرے گا۔انہوں نے ورکشاپ کے انعقاد کے لیے تمام متعلقین کا شکریہ ادا کیا۔