بیرونی کمپنیوں سے ویکسین کی سربراہی میں دشواری کا اندیشہ

   

گلوبل ٹنڈرس میں کوئی خاص ردعمل نہیں، ریاست کی ضرورت کے مطابق سربراہی مشکل
حیدرآباد: بین الاقوامی کمپنیوں سے کورونا ویکسین کے حصول کیلئے تلنگانہ حکومت کی کوششوں پر کوئی خاص ردعمل حاصل نہیں ہوا ۔ حکومت نے گلوبل ٹنڈر طلب کئے لیکن بہت کم کمپنیوں نے اپنا جواب داخل کرکے ویکسین کی سربراہی میں دلچسپی دکھائی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو 4 کروڑ ویکسین خوراک کی ضرورت ہے لیکن بیرونی کمپنیوں نے کم مدت میں اس قدر خوراک کی سربراہی سے معذوری کا اظہار کیا ۔ تلنگانہ میں ابھی تک تقریباً 60 لاکھ افراد کو ویکسین کی خوراک دی جاچکی ہے ۔ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے بھی ویکسین کا آرڈر دیا ہے ، لہذا ایک ہی وقت بڑی مقدار میں سربراہی ممکن نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کو امید ہے کہ ٹنڈر داخل کرنے کی آخری تاریخ 4 جون تک مزید کمپنیاں جواب داخل کریں گی۔ واضح رہے کہ بیرونی کمپنیوں سے ویکسین حاصل کرنے ریاستوں کو مرکز کی اجازت کے بعد تقریباً 12 سے زائد ریاستوں نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں سے ربط قائم کیا ہے۔ ٹاملناڈو ، کرناٹک ، اڈیشہ اور اترا کھنڈ میں گلوبل ٹنڈرس طلب کئے ہیں۔ اترپردیش پہلی ریاست ہے جس میں 40 ملین ویکسین کی خوارک کیلئے گلوبل ٹنڈرس طلب کئے گئے ۔ تلنگانہ حکومت کو امید ہے کہ وہ بیرونی کمپنیوں سے درکار تعداد میں ویکسین حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ حکومت ہر شہری کو مفت ویکسین کی سربراہی کا اعلان کرچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی ویکسین آسٹرا زینیکا اور روس کی اسپٹنک V کے تیار کنندگان نے تلنگانہ حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ آن لائین میٹنگ میں حصہ لیا ۔ کمپنیوں کے نمائندوں نے سربراہی کے شیڈول ، کولڈ چین اور رقمی ادائیگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ ایک ماہ میں کم از کم 15 لاکھ ویکسن کی خوراک سربراہ کی جائے ۔ 4 جون کو ٹنڈرس کے ادخال کی مہلت ختم ہونے کے بعد حقیقی صورتحال منظر عام پر آئے گی۔