مرکزی حکومت سے ملک گیر سطح پر نئے شعبہ کا قیام ، ٹیکس چوری سے جمع دولت کا بھی حساب لیا جائے گا
حیدرآباد۔ ہندوستانیوں کے بیرون ملک میں موجود اثاثہ جات اور کالے دھن کی تفصیلات اور تحقیقات کے حصول کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے ملک گیر سطح پر نئے شعبہ کا قیام عمل میں لانے کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس شعبہ کے ذریعہ غیر محسوب اثاثہ جات بالخصوص بیرون ملک جمع کی جانے والی دولت اور بے نامی کمپنیوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی تحقیقات عمل میں لائی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے اس نئے شعبہ کو فارن اسیٹ انوسٹیگیشن یونٹ کا نام دیا گیا ہے اور FAIU کو دی گئی ذمہ داریوں میں کئی ایک ذمہ داریاں شامل ہیں جن میں بیرون ملک جمع کی جانے والی دولت کے علاوہ بیرون ملک منتقل کی جانے والی دولت کی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور ہندوستانیوں کی جانب سے بیرون ملک غیر مجاز کمپنیو ںمیں کی جانے والی سرمایہ کاری کی تحقیقات کی جائے ۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس میں حکومت نے نئے شعبہ کی منظوری کے ساتھ ساتھ تمام ٹیکس چوری کے ذریعہ منتقل کی جانے والی دولت کی جانچ اور تحقیقات کی ذمہ داری بھی اس نئے شعبہ کے عہدیداروں کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہاجا رہا ہے کہ نئے شعبہ کے قیام سے کسی بھی پرانے شعبہ کو متاثر نہیں کیا جائے گا بلکہ تمام 14 تحقیقاتی شعبۂ جات کو برقرار رکھتے ہوئے اس نئے شعبہ کے قیام کو منظوری دی گئی ہے اور سی بی ڈی ٹی میں خدمات انجام دینے والے عہدیدارو ںکی خدمات بھی اس نئے شعبہ میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ سی بی ڈی ٹی میں 69 نئے عہدیداروںکے تقرر کے سلسلہ میں قطعی منظوری کیلئے وزیر فینانس کی جانب سے دستخط کا انتظار ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران اس سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گا۔ذرائع کے مطابق ہندوستان کی جانب سے دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ کئے جانے والے معاہدات کو نظر میں رکھتے ہوئے اس نئے شعبہ کے قیام کو منظوری دی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے اس خصوصی تحقیقاتی شعبہ کا قیام ہی دراصل ان معاہدات کا نتیجہ ہے جو کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران دنیا کے کئی ایک ممالک کے ساتھ کئے گئے ہیں جو اب تک ٹیکس چوری کرنے والوں کی جانب سے جمع کی جانے والی دولت کا محفوظ ٹھکانہ تصور کئے جا رہے تھے۔بتایاجاتا ہے کہ ہندوستان کے کئی ممالک کے ساتھ معاہدہ کے بعد اب ہندوستان عالمی سطح پر ٹیکس دہندگان کی تفصیلات کے حصول کا مجاز ہے۔