بیس سال فیڈریشن آف انڈیا کی تشکیل

   

انڈیا میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی ترقی ۔ اتھلیٹس کا تحفظ ہونا چاہئے
حیدرآباد: حالیہ برسوں میں انڈین اسپورٹس نے کافی فروغ پایا اور اچھی بات یہ ہے کہ کرکٹ کے علاوہ کھیلوں میں بھی ترقی ہورہی ہے۔ دیگر کھیلوں میں بھی کافی گوشے آگے آئے ہیں اور کھلاڑیوں نے بھی کافی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے جو ہندوستان کیلئے بحیثیت مجموعی اچھی بات ہے۔ ٹوکیو اولمپکس 2020 میں ہندوستان کی کامیابی نے دکھایا کہ انڈیا میں کرکٹ کے علاوہ کھیلوں میں بھی خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے اور ان کھیلوں میں بھی اعلیٰ ترین سطح پر مظاہرے پیش کرنے کی قابلیت موجود ہے۔ وزارت امور نوجوانان اور کھیل کود (ایم وائی اے ایس) نے اتھلیٹس کے مفاد کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا ہے جن کا مستقبل اُن کے فیڈریشنس کی مسلمہ حیثیت سے ختم ہوجانے سے غیریقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ فیڈریشنس کی مسلمہ حیثیت سے ختم ہوجانے پر وہ انٹرنیشنل ٹورنمنٹس میں حصہ لینے سے محروم ہورہے ہیں جو نہ صرف اُن کے کریئر بلکہ ہندوستان کے مفاد کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ بیس بال بھی ایسا کھیل ہے جو ہندوستان کو گلوبل اسپورٹس پاور بنا رہا ہے۔ اس سے اولمپک میگا ایونٹ میں میڈل جیتنے کا موقع بھی پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستانی بیس بال کھلاڑی اپنے فیڈریشن کی مسلمہ حیثیت ختم کئے جانے سے کافی مشکلات سے دوچار ہیں۔ وہ دنیا بھر کے کئی اہم مقابلوں میں حصہ لینے سے محروم ہوئے ہیں۔ نوتشکیل شدہ بیس بال فیڈریشن آف انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں ایم آئی اے ایس سے امید ہے کہ وہ فیڈریشنس کی مسلمہ حیثیت ختم ہونے پر مشکلات سے دوچار اتھلیٹس اور کھلاڑیوں کے کریئر کو بچانے آگے آئیں گے۔ جنرل سکریٹری ایل راجیندر نے کہا کہ بیس بال کو موجودہ طور پر وزارت کی سرپرستی کی زیادہ ضرورت ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر سابق انٹرنیشنل اور نیشنل کھلاڑیوں نے مل کر نے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے تاکہ اس کھیل کو وزارت کے مثبت منصوبوں کی مطابقت میں فروغ دیا جاسکے۔ ملک بھر کی تقریباً 20 اسٹیٹ اسوسی ایشنس نے حیدرآباد میں یکجا ہوکر ’’بیس بال فیڈریشن آف انڈیا‘‘ تشکیل دیا ہے۔ انسانیت نواز سرگرمیوں سے وابستہ شری ایس رامچندر ریڈی کو متفقہ طور پر صدر منتخب کیا گیا ہے۔ شری ایل راجیندر سابق انٹرنیشنل کھلاڑی کو جنرل سکریٹری اور شری ٹی پدمنابھن کو ٹریژرر منتخب کیا گیا ہے۔ شری رامچندر ریڈی نے اپنے صدارتی خطاب میں تیقن دیا کہ تمام تر کوششوں کے ذریعے کھیل کو فروغ دیں گے اور کھلاڑیوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ اور خصوصیت سے فیڈریشن اور عمومیت سے انڈین اسپورٹس کیلئے کامیابیاں حاصل کی جائیں گی۔