بیف برآمدات پر 40 دن میں پابندی لگائی جائے

,

   

چیف منسٹر اترپردیش کو خود کو ہندو ثابت کرنے سوامی اویمکتیشورانند کا چیالنج

لکھنؤ30 جنوری (ایجنسیز) معروف ہندو سنیاسی سوامی اویمکتیشورانند نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کھلا محاذ کھولتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں بیف (گوشتِ گاؤ و بھینس) کی برآمدات پر 40 دن کے اندر مکمل پابندی عائد کی جائے، ورنہ یہ مان لیا جائے گا کہ وزیر اعلیٰ ’’نقلی ہندو‘‘ ہیں۔ سوامی اویمکتیشورانند نے جمعہ کے روز وارانسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف زعفرانی لباس پہن لینے اور تقاریر کرنے سے کوئی ہندو نہیں بن جاتا۔ ان کے مطابق ہندومت کی پہلی شرط ’’گو سیوا‘‘ (گائے کی خدمت) اور ’’دھرم رکھشا‘‘ (مذہب کا تحفظ) ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اترپردیش ملک کی مجموعی بیف برآمدات میں تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتا ہے، تو کیا بیف کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرِ مبادلہ کے ذریعہ ’’رام راجیہ‘‘ کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے؟ سوامی نے مطالبہ کیا کہ اترپردیش میں مویشیوں کے گوشت کی برآمدات پر مکمل پابندی لگائی جائے اور گائے کو ’’راجیہ ماتا‘‘ قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 40 دن کے اندر اس سلسلے میں حکومت کا کوئی حکم جاری نہ ہوا تو وزیر اعلیٰ کو ’’نقلی ہندو‘‘ قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ برآمد کیا جانے والا گوشت اگرچہ ’’بھینس کا گوشت‘‘ کہلاتا ہے، مگر اس میں گائے کا گوشت بھی شامل ہوتا ہے۔سوامی اویمکتیشورانند نے اعلان کیا کہ مارچ میں لکھنؤ میں سنتوں اور سنیاسیوں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں اس مسئلے پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بیف برآمدات پر پابندی عائد نہ کی تو سخت موقف اختیار کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بالواسطہ طور پر سوامی اویمکتیشورانند کو ’’کالنیمی‘‘ قرار دیا تھا، جو ہندو اساطیر میں ایک ایسا کردار ہے جو سادھو کا بھیس بدل کر بھگوان ہنومان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سوامی اویمکتیشورانند نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کی لڑائی ’’اصلی‘‘ اور ’’نقلی‘‘ ہندوؤں کے درمیان ہے۔ سوامی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ موجودہ حالات مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں اور ’’اینٹی سناتن‘‘ عناصر کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں تاہم انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مغھ میلے کے دوران بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں رتھ پر سوار ہو کر سنگم جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔