لوہے کے کھمبے سے باندھ کر زدوکوب کیا گیا ، واقعہ پر سنسنی ، قریش طبقہ میں خوف کا ماحول
نظام آباد: 2/اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد کے مورتاڑ سے تعلق رکھنے والے قریشی خاندان کے افراد پر ابراہیم پٹنم منڈل کے وارشاکونڈہ گاؤں میں پیش آئے حملہ کے واقعہ نے سنسنی پھیلا دی۔ تفصیلات کے مطابق محمد اقبال قریشی اور ان کے 16 سالہ فرزند محمد انس قریشی پر اس وقت حملہ کا شکار ہوئے جب وہ اپنے جاننے والوں کو بیف گوشت فروخت کر رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق بائنڈلا سرکانت عرف چنٹو، گنگانولا منیش، دودھی ہرشا، پتھکالا ترون اور دیگر افراد، جو وارشاکونڈہ گاؤں کے ساکن ہیں ہنومان مالا پہنے ہوئے جمع ہوئے اور دونوں کو زبردستی روک کر ایک لوہے کے کھمبے سے باندھ دیا۔ بعد ازاں انہیں ہاتھوں سے مارا پیٹا گیا، گالی گلوج کی گئی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی اس واقعہ کو مذہبی بنیادوں پر اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پولیس اسٹیشن میٹ پلی میں متاثرین کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اس واقعے کے بعد مورتاڑ میں سنسنی پھیل گئی تھی متاثرہ باپ بیٹے کو ابتدائی طبی سہولت فراہم کرتے ہوئے ان کے آبائی مقام کو بھیج دیا گیا اس بارے میں سیاست نیوز کو اطلاع ملنے پرجگتیال ضلع کے پولیس عہدیداروں سے دریافت کرنے پر بتایا کہ اس خصوص میں مقدمہ درج کیا گیا ہے تحقیقات جاری ہے اور حملہ اوروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی عام طور پر قریش برادران کی جانب سے ہمیشہ کی طرح کل بھی گوشت فروخت کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے لیکن منصوبہ بند طریقے سے ان پر ہجوم نے حملہ کر دیا ۔ اس طرح کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے قریش طبقے میں خوف پایا جا رہا ہے۔