بیماریاں پھوٹ پڑنے سے فلسطینی پناہ گزینوں کو خطرات

   

Ferty9 Clinic

جنیوا : عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی کیمپوں میں بیماریاں پھوٹ پڑنے سے پناہ گزینوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہوکر پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے والے افراد طبی سہولیات نہ ہونے کے سبب بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ کیمپوں میں ہیپا ٹائٹس سمیت دیگر مہلک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جب کہ علاج کی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ پناہ گزیں کیمپوں کا مشاہدہ کرنے والے افراد نے میڈیا کو بتایا کہ کیمپوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی بڑی تعداد مہلک امراض میں مبتلا ہو رہی ہے اور یہ بے گھر اور بے یار و مددگار فلسطینی خود کو عالمی برادری کی بے حسی کی وجہ سے موت کے قریب محسوس کررہے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد سے اب تک 24 لاکھ آبادی کے تقریباً 85 فی صد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ میں ہونے والی تباہی کی وجہ سے 80 فی صد آبادی کیمپوں میں بے یار و مددگار رہنے پر مجبور ہے۔ ان پناہ گزیں کیمپوں میں پانی، خوراک و علاج سمیت بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔