بینسک کی جنوری میں ناقابل شکست دوڑ جاری

   

میلبورن۔ سوئٹزرلینڈ کی 12 ویں سیڈ بیلنڈا بینسک نے ہفتے کے روز آسٹریلین اوپن میں خواتین کے سنگلز کے چوتھے راؤنڈ میں اٹلی کی کیملا جیورگی کو 6-2 7-5 سے شکست دے کر میدان مار لیا۔ دونوں کھلاڑی 2019 کے بعد سے مقابلہ نہیں کیا تھا لیکن ٹوکیو اولمپک گیمزکے گولڈ میڈلسٹ بینسک نے اپنے چھٹے مقابلے میں 3-2 کی سبقت سے فائدہ اٹھایا۔ وہ جنوری میں بھی ناقابل شکست دوڑ میں ہے، جس نے 2023 کے سیزن کا آغاز شاندار انداز میں کیا ہے ۔ اس دوران انہوں نے گاربائن موگوروزا، کیرولین گارسیا اور ڈاریا کساتکینا جیسی عالمی کھلاڑیوں کو شکست دے کر ایڈیلیڈ انٹرنیشنل خطاب حاصل کیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو میلبورن پارک میں راؤنڈ آف 32 میں ایک دلچسپ تصادم کا منظر پیش کیا۔ بینسک نے پہلے سیٹ میں سبقت بنائی اور تیسرے اور ساتویں گیم میں جیورجی کی سرویس کو توڑ کر سیٹ 6-2 سے اپنے نام کر لیا۔ دوسرے سیٹ میں دونوں کھلاڑیوں نے پہلے دوگیمز میں سرویس کو برقرار رکھا جس کے بعد بینسک نے تیسری گیم میں دوبارہ جیورجی کی سرویس کو توڑا۔ وہ ایک سخت آٹھویں گیم سے بچ گئیں جو چار بار فائدے میں گئی اس سے پہلے کہ بینسک نے 5-3 کی برتری حاصل کرنے کے لیے اپنی سروِس برقرار رکھی۔ جیورجی نے 10ویں گیم میں بینسک کی سرویس کو توڑ کر اسے 5-5 کردیا لیکن سوئس اسٹار نے11ویں گیم میں واپسی کی اور پھر اپنی سرویس کو برقرار رکھتے ہوئے سیٹ 6-4 سے اپنے نام کر لیا اور ایک گھنٹے 40 منٹ میں فتح حاصل کی۔ اس سے آسٹریلین اوپن میں جیورجی کی مہم کا خاتمہ ہو گیا جہاں اسے ان الزامات سے انکارکرنے پر مجبور کیا گیا کہ اس نے 2022 کے ایونٹ میں شرکت کے لیے جعلی کورونا دستاویزات کا استعمال کیا تھا۔ 31 سالہ جیورجی نے منگل کو آسٹریلین اوپن کے پہلے راؤنڈ میں اناستاسیا پاولیوچینکووا کے خلاف اپنی فتح کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران الزامات کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے۔ ڈاکٹر سے تفتیش کی جا رہی ہے، اسے گزشتہ سال میں قانون کے ساتھ پریشانی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے تمام ویکسینیشن مختلف جگہوں پر کروائے ہیں اس لیے پریشانی اس کے ساتھ ہے، مجھے نہیں۔