بینکوں کو 18 کھرب سے زائد کی دھوکہ دہی: آر بی آئی

   

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بینکوں کے ساتھ کیے گئے گھوٹالوں کے بعد بھی بینکوں کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے، بلکہ اس دھوکہ دہی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ’لائیو مِنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 2020 میں بینک فراڈ کی رقم دوگنی ہو گئی ہے۔رواں مالی سال 1.85 ٹریلین یا تقریباً 18 کھرب 50 ارب روپے کی دھوکہ دہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھوکہ دہی کی رقم تو ضرور دوگنی ہوئی ہے تاہم معاملات میں بھی 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کی رپورٹ کا اْس حکومت کے دور میں منظر عام پر آنا حیران کن ہے جو ’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرہ لگاتی ہے۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ یہ دھوکہ دہی کب ہوئی ہے، لیکن ریزرو بینک آف انڈیا نے دھوکہ دہی کو اسی سال میں ظاہر کیا ہے، جس میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد نے جعلسازی سے پانچ سال قبل کسی بینک سے قرض لیا تھا لیکن 2020 میں اس فراڈ کا پتہ چلتا ہے، تو اسے 2020 کے مالی سال میں شمار کیا جاتا ہے۔کاروباری مالیا، نیرو مودی اور میہول چوکسی کے یکے بعد دیگرے بینک گھوٹالہ کے واقعات سے ایک مرتبہ ہندوستان میں ہلچل پیدا ہو گئی تھی۔ یہ سبھی کاروباری ہندوستان سے فرار ہو چکے ہیں اور انہیں حکومت ہند کی جانب سے بھگوڑا قرار دیا جا چکا ہے۔ ان بڑے ہائی پروفائل کیسز کے بعد ایسا لگتا تھا کہ اب بینک فراڈ کی اطلاعات کم ہو جائیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور تازہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔گزشتہ روز منگل کو جاری کردہ ریزرو بینک آف انڈیا کی سالانہ رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر معاملات میں بینکوں کے ذریعہ دیئے گئے قرضوں میں فراڈ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گھوٹالہ 98 فیصد قرض کی شکل میں دی گئی رقم میں کیا گیا ہے اور یہ 1.82 ٹریلین روپے ہے۔ بینکوں کے دوسرے شعبوں میں بہت کم گھپلہ ہوا ہے۔آر بی آئی کی رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ 2019-20ء میں جتنے بھی دھوکہ دہی کے معاملہ منظر عام پر آئے ہیں اس کیلئے بڑے کاروباری ذمہ دار ہیں۔ دراصل سرفہرست 50 واقعات میں کل رقم کی 76 فیصد کی دھوکہ دہی انجام دی گئی ہے۔