ضیاء گوڑہ میں وائرس سے متاثرہ خاتون کی بینک آمد و رفت کے بعد محکمہ صحت کی ہدایت
حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) شہر میں ڈاکٹرس ‘ طبی عملہ کے علاوہ تاجرین کے بعد اب بینک ملازمین کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاقہ ضیاء گوڑہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ پائی جانے والی خاتون کی جانب سے پیسوں کے لئے بینک جانے کی اطلاع اور نقد رقومات حاصل کرنے کی تفصیلات کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ بینک جہاں متاثرہ خاتون گئی تھیں اس کے مکمل عملہ کو قرنطینہ میں رکھا جائے تاکہ اگر مذکورہ خاتون کے ذریعہ کورونا وائرس کسی اور میں منتقل ہوا ہے تو اس کے علاج کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ابتداء میں نیولف دواخانہ کے طبی عملہ کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کے راست رابطہ میں آنے کے سبب قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد ایک اور خانگی دواخانہ میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریض سے راست رابطہ کے سبب ڈاکٹرس اور طبی عملہ کو قرنطینہ کیا گیا تھا ۔ چند ہفتہ قبل محبوب گنج کے تاجر کو کورونا وائرس مثبت پائے جانے کے بعد محبوب گنج کو مہر بند کردیا گیا ہے اور کئی لوگوں کو قرنطینہ میں چلے جانے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح نیلوفر دواخانہ میں دوسرے مریض سے راست رابطہ کے بعد جب مریض کو کورونا وائرس کی توثیق ہوئی تو رابطہ میں آنے والے تمام ڈاکٹرس کے علاوہ طبی عملہ کو قرنطینہ میں چلے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب جبکہ ضیاء گوڑہ میں بینک سے کورونا وائرس کی متاثرہ کے رجوع ہونے کے بعد بینک کے مکمل عملہ کو قرنطینہ میں چلے جانے کا حکم دیئے جانے کے بعد ملک بھر میں یہ پہلا واقعہ ہوگا جس میں بینک ملازمین کو قرنطینہ میں چلے جانے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ بینک ملازمین سے راست رابطہ میں آنے والی کورونا وائرس کی متاثرہ خاتون سے رابطہ کے بعد بینک ملازمین ایک دوسرے سے رابطہ میں رہنے کے علاوہ دوسرے صارفین اور گاہکوں سے بھی رابطہ میں رہے ہیں اسی لئے محکمہ صحت کی جانب سے انہیں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری قرنطینہ میں چلے جائیں تاکہ اگر ان میں کسی قسم کی علامات پائی جاتی ہیں تو فوری طور پر ان کا علاج شروع کیا جاسکے۔
