ملازمین نے احتجاجاً بیف پارٹی کر ڈالی ، احتجاج کو مقامی سیاسی حمایت حاصل
کوچی ۔ 30 ۔ اگست ( ایجنسیز ) ۔ کیرالا کے کوچی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک بینک منیجر نے کینٹین میں گائے کے گوشت (بیف) کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی۔ اس فیصلے کے خلاف بینک ملازمین نے احتجاجاً بیف پارٹی کا اہتمام کیا۔اطلاعات کے مطابق بینک کا علاقائی منیجر اصل میں بہار کا رہنے والا ہے اور حال ہی میں اس کی تقرری کوچی کی شاخ میں ہوئی ہے۔ بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (BEFI) کے کارکنان پہلے ہی منیجر کی مبینہ ذہنی ہراسانی کے خلاف احتجاج کی تیاری کر رہے تھے، لیکن گائے کے گوشت پر پابندی کے بعد احتجاج کا رخ مکمل طور پر بدل گیا۔ملازمین نے دفتر کے باہر گائے کا گوشت اور روٹی پیش کیا۔ احتجاج کو مقامی سیاسی حمایت بھی ملی۔ بائیں بازو کے حمایت یافتہ آزاد ایم ایل اے کے ٹی جلیل نے ملازمین کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیرالہ میں سنگھ پریوار کا کوئی ایجنڈا کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا:”کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کیا سوچنا ہے، یہ فیصلہ کوئی سینئر افسر یا طاقتور نہیں کرے گا۔ ہماری زمین سرخ ہے اور اس سرزمین کا دل بھی سرخ ہے۔ یہاں سرخ جھنڈا لہرا رہا ہے، اس لیے فاشزم کے خلاف بے خوف آواز بلند کی جا سکتی ہے۔”بی ای ایف آئی (BEFI) کے لیڈر ایس ایس انیل نے کہا کہ کینٹین میں مخصوص دنوں پر بیف پیش کیا جاتا تھا، مگر منیجر نے عملے کو ہدایت دی کہ اب گائے کا گوشت نہیں دیا جائے۔ انہوں نے کہا:یہ بینک آئین کے تحت چلتا ہے۔ کھانا ہر شخص کی ذاتی پسند ہے۔ ہندوستان میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کا کھانا کھا سکے۔ ہم کسی پر زبردستی نہیں کر رہے۔ ہمارا احتجاج صرف اپنے حقوق کے لیے ہے۔اس واقعے نے نہ صرف بینک کے اندر ہلچل مچائی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔