بین الاقوامی سیاسی ‘ معاشی و تجارتی اداروں میں اصلاحات ضروری

,

   

Ferty9 Clinic

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو وسیع اور جمہوری بنانے کی وکالت۔ نائب صدر وینکیا نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد 31 اگسٹ ( سیاست نیوز ) نائب صدر جمہوریہ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ بین الاقوامی سیاسی ‘ معاشی اور تجارتی اداروں میں اصلاحات لائے جانے چاہئیں ۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو مزید جمہوری بناتے ہوئے اسے مزید نمائندہ بنانے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ یہاں دکن ڈائیلاگ II کے افتتاحی سشن سے خطاب کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہندوستان قواعد پر مبنی ہمہ جہتی نظم کی تائید کرتا ہے تاکہ کئی مشترکہ چیلنجس سے نمٹا جاسکے جن میں ماحولیاتی تبدیلی ‘ ٹکنالوجی کی تقسیم ‘ تجارتی تنازعات ‘ دہشت گردی ‘ رابطے اور بحری خطرات بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں انفرادی اور مفادات کے تحفظ جیسے مسائل کا سامنا ہو تو ہمیں اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان اور اس جیسے دوسرے ترقی پذیر ممالک نے ہی پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایک ہمہ جہتی نظام کی اصلاح لائی جانی چاہئے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی حکمرانی میں ان کا مناسب مقام مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ جہتی نظام کیلئے ہندوستان کی جب وکالت رہی ہے اس پر موقف تبدیل نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بھی اصلاحات کے ساتھ ہمہ جہتی نظام کی ضرورت ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہم کو بین الاقوامی سیاسی ‘ معاشی اور تجراتی اداروں میں اصلاحات لانے کی شدید ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کو زیادہ نمائندہ بنایا جاسکے

اور حقائق کی بنیاد پر کارروائی ہوسکے ۔ یہ ادارے نئے چیلنجس سے نمٹنے کے اہل بن سکیں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان عالمی آبادی کے چھٹے حصے کی نمائندگی کرتا ہے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو وسعت دی جانی چاہئے اور اس کو جمہوری طرز کا ادارہ بنایا جانا چاہئے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ 21 ویں صدی کو ایشیا کی صدی قرار دیا جارہا ہے اور ایشیا میں امن ‘ سلامتی اور ترقی کے فروغ میں ہندوستان کو ایک اہم رول ادا کرنا ہے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وسیع علاقائی رابطوں کے ذریعہ تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور ترقی اور خوشحالی لانے میں اہم رول نبھایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات اور کاوشوں کو کامیاب اور دیرپا بنانے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں شفاف بنایا جائے اور سب کو ساتھ لایا جائے اور علاقائی یکجہتی و سالمیت کا احترام کیا جائے ۔