بین الاقوامی مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے : اوم برلا

   

Ferty9 Clinic

دولت مشترکہ ممالک کے جمہوری ادارے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے اہل

گوہاٹی ۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کی وسط سال کی میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ بین الاقوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا استعمال کیا جانا چاہئے ۔ برلا نے کہا کہ ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھرا ہے ۔ اس موقع پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما بھی موجود تھے ۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ بین الاقوامی مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ۔ بین الاقوامی امن اور استحکام عالمی خوشحالی کے لیے ضروری ہے ’۔ انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ ممالک کے جمہوری ادارے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان ممالک کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے اجتماعی مقصد کے لیے کام کرنا چاہیے ۔ ہندوستان کو جمہوریت اور جمہوری اقدار کا مضبوط حامی بتاتے ہوئے مسٹربرلا نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت نہ صرف قدیم ہے بلکہ مضبوط، بالغ اور متحرک ہے ۔ انہوں نے کہا ،‘جمہوریت ہمارے خیالات اور کاموں میں سرایت کر گئی ہے اور ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہے ۔لوک سبھا کے اسپیکر نے ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے 75 سالوں کے دوران، ہندوستانی جمہوریت مسلسل مضبوط ہوئی ہے ۔ پنچایتی انتخابات سے لے کر پارلیمنٹ تک انتخابات کرانے میں ہندوستان کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ 800 پارلیمانی نشستوں، تقریباً 4500 اسمبلی نشستوں اور 2.75 لاکھ پنچایتوں کے انتخابات کرانے میں ہندوستان کی ثابت قدمی اور کامیابی اس بات کی گواہی ہے کہ ہندوستانی جمہوریت فعال، ترقی پذیر اور استحکام کی جانب گامزن ہے ۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تنوع میں اتحاد ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور ہم سب اپنی لسانی، ثقافتی، جغرافیائی اور مذہبی تنوع کے باوجود متحد ہیں۔ سرما نے کہا کہ یہ آسام کے لیے ایک تاریخی دن ہے ، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہندوستان میں اجلاس ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام اسمبلی ہندوستان کی قدیم ترین قانون ساز اسمبلیوں میں سے ایک ہے ، جو اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔ بھارت رتن گوپی ناتھ بوردولوئی کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آسام اسمبلی نے پچھلی آٹھ دہائیوں کے دوران کئی تاریخی مباحثے دیکھے ہیں، جن میں بہت سی عظیم شخصیات جمہوریت کے اس مندر کی زینت بنی ہیں۔