بین الاقوامی مسافرین کے لیے قرنطینہ کی لازمی شرط کو ختم کرنے کا امکان

   

قرنطینہ کے باوجود وائرس کو روکنے میں ناکامی ، ڈبلیو ایچ او کا گہرائی کے ساتھ جائزہ
حیدرآباد۔ بین الاقوامی مسافرین کے لئے لازمی قرنطینہ جلد ختم کیا جاسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے گذشتہ یوم جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ عالمی فضائی مسافرین کیلئے لازمی قرنطینہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں اس قدر معاون ثابت نہیں ہورہا ہے جتنی توقع کی جا رہی تھی ۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال گذشتہ جب کورونا وائرس کو وباء قرار دیا گیا تھا اس وقت کی گئی سفارشات میں یہ کہا گیا تھا بیرون ممالک سفر کرنے والے مسافرین کو لازمی قرنطینہ کروایا جائے تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات ہوسکیں لیکن گذشتہ دیڑھ سال کے دوران کئے گئے مطالعہ کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مسافرین کے لازمی قرنطینہ سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کوئی خاص مدد حاصل نہیں ہوئی ہے لیکن عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ سفارشات کے پیش نظر کئی رکن ممالک نے اس پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے 7 تا14 دن کے لازمی قرنطینہ کا لزوم عائد کیا تھا اور اب بھی کئی ممالک میں لازمی قرنطینہ کی شرط عائد ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافرین کیلئے لازمی قرنطینہ کی شرط کے لزوم کے اقدامات اس لئے کئے گئے تھے تاکہ متاثرہ مریض دیگر ممالک میں شہریوں کو متاثر نہ کریں تاہم دنیا بھر میں فضائی راستوں کو کھول دیئے جانے کے بعد عائد کی گئی کورونا وائرس کی منفی رپورٹ کے ساتھ سفر کی شرط کے بعد قرنطینہ کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ مسافرین کے لئے قرنطینہ کی شرط ان کیلئے تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور کئی مسافرین پر اضافی معاشی بوجھ کا سبب بن رہی ہے جس کے وہ متحمل نہیں ہیں اس سلسلہ میں موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مختلف ادارو ںکی جانب سے یہ رپورٹ عالمی ادارۂ صحت کو روانہ کردی گئی ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے ان رپورٹس اور لازمی قرنطینہ سے ہونے والے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسافرین کے لازمی قرنطینہ سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کوئی خاص مدد حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کئی ممالک کی جانب سے جلد ہی صرف کورونا وائرس کی منفی رپورٹ کے ساتھ فضائی سفر کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور تمام ممالک کے فضائیہ کی جانب سے پروازوں کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔