بین الاقوامی یوم گھریلو ورکرس، کچھ مطالبات

,

   

دوبئی ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) آج دنیا کے بیشتر ممالک ایسے ہیں جہاں گھریلو خدمات انجام دینے والے افراد کا کوئی مستقبل نہیں ہے ان کے کام کو بھی بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ دنیا بھر میں گھریلو خدمات انجام دینے والے ورکرس کی تعداد 67.1 ملین ہے۔ گذشتہ کئی سالوں کے دوران یہ بات دیکھنے میں آئی ہے مختلف آجرین، بھرتی کرنے والے ادارے اور سرکاری ملازمین گھریلو خدمات انجام دینے والوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور ان کے کاموں کو غیراہم قرار دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں میاں بیوی گھریلو کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی دیگر گھریلو کام کاج انجام دینے کیلئے آیا یا خادمہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل دوبئی میں مجھے ایک ایسے شخص نے بتایا جس کا کام گھریلو ملازماؤں کی بھرتی کروانا ہے، کہ گھریلو کام کاج کرنے والی خادماؤں کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی سوچ کو بلند کرلیں تو پھر انہیں گھریلو خدمات انجام دینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ آج یہ حال ہیکہ گھریلو خدمات کو انتہائی غیراہم ملازمت تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے ہزاروں گھریلو ملازمین مل جائیں گے جنہیں خود اپنے ہی ملک کے لیبر قوانین کے تحت تحفظ فراہم نہیں ہوتا۔ 16 جون 2011ء کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے ایک تاریخی معاہدہ انجام دیا جسے کنونشن آن ڈیسنٹ ورک فار ڈومیسٹک ورکرس کا نام دیا گیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران یہ گھریلو ملازمین بہت زیادہ متاثر ہوئے جہاں اب یہ مطالبہ کیا جارہا ہیکہ انہیں ہونے والے نقصانات کی پابجائی کی جائے۔ ہر گھریلو ملازم ؍ ملازمہ کو کم سے کم چھ ماہ تک 10,000 روپئے بطور ہرجانہ ادا کیا جائے۔