بین مذہبی شادیوں پر پابندی ۔ اُترپردیش کے بعد گجرات

   


ریاست گجرات میں 60 لاکھ مسلمان ۔ تبدیلی مذہب کو روکنے وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست بھی ’لوو جہاد ‘ کے خلاف کمربستہ

احمدآباد : گجرات میں مجالس مقامی کے لئے انتخابات فبروری میں مقرر ہیں اور اسمبلی چناؤ کے لئے اندرون دو سال باقی ہیں۔ ان انتخابات کو ملحوظ رکھتے ہوئے برسراقتدار بی جے پی کے قائدین اور لیجسلیٹرز دوبارہ اپنے پسندیدہ سیاسی کھیل کی طرف لوٹ رہے ہیں جو ووٹروں کو تقسیم کرنا ہے ۔ اس مرتبہ وجئے روپانی حکومت پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ بین مذہبی شادیوں یا نام نہاد ’’لوو جہاد ‘‘ کو روکنے کے لئے قانون لائیں۔ زعفرانی پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں اُترپردیش ، ہماچل پردیش ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ ، کرناٹک اور آسام کے بعد ایسے امکانات قوی ہوگئے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست بھی ’لووجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کرے گی ۔ لوو جہاد اسلام سے خائف عناصر کی سازش پر مبنی نظریہ ہے جس میں الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مسلم نوجوان غیرمسلم برادریوں کی لڑکیوں اور عورتوں کو نشانہ بناتے ہوئے اُنھیں عشق کے جال میں پھانس کر مذہب تبدیل کراتے ہیں اور وہ مذہب اسلام ہی ہوتا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی سربراہ سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ اگر کوئی غلط مقصد سے شادی کرتا ہے یا اصل مقصد تبدیلی مذہب کا ہوتا ہے تو پھر ایسے رواج پر قابو پانے کے لئے کوئی قانون ہونا چاہئے ۔ جب چیف منسٹر روپانی سے رابطہ کیا گیا ، اُنھوں نے ایسے قانون کے امکان کو مسترد نہیں کیا بلکہ صحافیوں کو بتایا کہ ریاستی حکومت اس کا مناسب وقت پر جائزہ لے گی کہ آیا ایسی قانون سازی ہونی چاہئے یا نہیں ۔ کئی سینئر مقامی بی جے پی قائدین نے حال ہی میں وڈوڈرا میں 23 سالہ ہندو خاتون کے گھر کا دورہ کرتے ہوئے اُسے ترغیب دینے کی کوشش کی کہ وہ مسلم شخص کے ساتھ اپنی حالیہ شادی توڑ دے ۔ ان قائدین نے لوو جہاد کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے معاملے کو خاص رنگ دینے کی کوشش کی ۔ یکم ڈسمبر کو دابھوئی بی جے پی لیجسلیٹرز شیلیش مہتا نے سب سے پہلے مطالبہ کیا کہ یوپی میں نافذ قانون کے خطوط پر گجرات میں بھی قانون سازی ہونی چاہئے تاکہ مشکوک مذہبی تبدیلیوں کا سدباب ہوجائے ۔ اُس کے دو روز بعد بھڑوچ کے بی جے پی ایم پی منسوک واسوا نے چیف منسٹر روپانی کو مکتوب بھیج کر لوو جہاد کے مبینہ کیسوں کو روکنے کے لئے سخت قانون لانے کا مطالبہ کیا ۔ ریاست گجرات کو زعفرانی پارٹی کی پہلی ہندوتوا لیباریٹری کہا جاتا ہے ۔ گجرات بی جے پی کی سرگرمیوں کے پس منظر میں میناریٹی کوآرڈنیشن کمیٹی کے کنوینر مجاہد نفیس نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم پی واسوا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے جو فرقہ وارانہ ریمارکس کے ذریعہ ریاست میں آباد چھ ملین یا ساٹھ لاکھ مسلمانوں کے خلاف ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ کمیٹی ریاست میں علحدہ وزارت اقلیتی بہبود اور اقلیتوں کے لئے خصوصی معاشی پیاکیج کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے ۔ کمیونٹی کے معروف لیڈر زاہد قادری نے کہاکہ روپانی حکومت یقینا لوو جہاد کے خلاف قانون لائے گی کیونکہ تمام بی جے پی حکمرانی والی ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تقلید میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ وہیں سینئر کانگریس لیڈر ارجن مودھ وادیا نے کہا کہ کوئی بھی بالغ فرد کو یہ بنیادی حقوق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرے اور کوئی قانون ان حقوق کوممنوع قرار دے تو وہ خود غیردستوری قرار پائے گا ۔ حتیٰ کہ صدر گجرات کانگریس امیت چاوڈا نے بھی کہا کہ دستور ہند میں شہریوں کو جو آزادی دی ہے وہ من مانی قوانین کے ذریعہ چھینی نہیں جاسکتی ۔ گجرات ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ اقبال مسعود خان کے مطابق بین مذہبی یا مختلف ذاتوں کے مابین شادیوں کے خلاف قانون بجائے خود دستور کے مغائر ہے اور یہ قانون کی عدالت میں ٹھہر نہیں پائیگا۔ احمدآباد کے سینئر جرنلسٹ اور سماجی جہدکار کلیم صدیقی نے بھی روپانی حکومت کے ممکنہ قانونی اقدام کے خلاف اظہار خیال کیاہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ یقینا ایسا اقدام کریں گے کیونکہ بی جے پی آر ایس ایس کا حصہ ہے جو اسی قسم کے قوانین چاہتا ہے ۔