چیف منسٹر مدھیہ پردیش کو ویڈیو پیام جاری
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں گوشہ محل اسمبلی حلقہ کے بی جے پی رکن ٹی راجہ سنگھ نے مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر موہن یادو سے اپیل کی ہے کہ وہ جبلپور میں بین مذہبی شادی میں مداخلت کرتے ہوئے اسے روک دیں۔ جبلپور میں ایک مسلم نوجوان کی ہندو خاتون سے شادی ہورہی ہے۔ راجہ سنگھ نے ویڈیو مسیج کے ذریعہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش سے مداخلت کی اپیل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شادی دراصل لوجہاد کا حصہ ہے اور اس کے اہتمام سے زبردست تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے۔ راجہ سنگھ نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش اور مدھیہ پردیش پولیس سے اپیل کی کہ وہ حسنین انصاری اور انکیتا راٹھور کے خلاف کارروائی کریں۔ راجہ سنگھ نے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت اس طرح کی بین مذاہب شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہندو سیوا پریشد کے سربراہ اتول جیسوانی نے راجہ سنگھ کے موقف کی تائید کی ہے۔ جیسوانی نے انکشاف کیا کہ انہیں راجہ سنگھ کا ویڈیو مسیج موصول ہوا اور انہوں نے کلکٹر جبلپور سے ملاقات کرتے ہوئے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت شادی کی درخواست کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔ ہندو سیوا پریشد نے حکام کو یادداشت پیش کی جس میں لوجہاد کے تحت شادیوں کا الزام عائد کیا گیا۔ جیسوانی نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش سے مداخلت کرتے ہوئے اپیل کی کہ پولیس تحویل میں موجود خاتون کو اس کے خاندان کے حوالے کیا جائے۔ کلکٹر جبلپور اے پشپیندر نے بتایا کہ شادی کی درخواست کو منسوخ کرنے کے معاملہ پر جانچ کی جائے گی۔ انصاری جبلپور سے تعلق رکھتا ہے جبکہ انکیتا اندور کی متوطن ہے اور یہ دونوں ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ پولیس نے تحقیقات کے نتیجہ کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا ہے۔ راجہ سنگھ نے ایک اور ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ کئی ہندو نوجوان مسلم خواتین سے شادی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے ہندو نوجوانوں کو بھی پولیس تحفظ حاصل ہوگا۔ واضح رہے کہ جبلپور کی بین مذہبی شادی کا یہ معاملہ سیاسی اور مذہبی رنگ اختیار کرچکا ہے۔1