سعودی عرب سے شوہر کی محنت کی پونجی غائب ہونے پر بیوی کی سائبر کرائم پولیس میں شکایت
حیدرآباد :۔ سائبر دھوکہ بازوں کی دھوکہ دہی جعلسازی اور بینک کھاتوں سے عوام کو دھوکہ دے کر رقم لوٹنا یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ لیکن پرانے شہر حیدرآباد میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ۔ جہاں بینک کھاتے سے رقم اچانک غائب ہوگئی ۔ ایک مسلم خاتون کے شوہر نے بیٹی کی شادی کے لیے رقم سعودی عرب سے اپنی بیوی کے اکاونٹ میں جمع کروائی تھی ۔ لیکن رقم اچانک غائب ہوگئی جب کہ اس خاتون نہ ہی اے ٹی ایم کا استعمال کیا اور نہ ہی آن لائن بنکنگ کے ذریعہ کوئی خریداری کی اور نہ ہی کسی دھوکہ باز کی جعلسازی کا شکار ، باوجود اس کے اس خاتون کے کھاتے سے 60 ہزار روپئے رقم غائب ہوگئی اور اس سارے معاملہ سے بینک عہدیدار لا تعلقی کا اظہار کررہے ہیں ۔ پریشان حال خاتون زرینہ سلطانہ نے سائبر کرائم پولیس سے شکایت کردی ۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں ملا جب کہ خاتون نے 10 نومبر سال 2020 کو شکایت کی تھی ۔ خاتون کے بینک اسٹیٹمنٹ اور ابتدائی تحقیقات کے بعد سائبر کرائم نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ حافظ بابا نگر مقبول پورہ علاقہ کے ساکن منور علی خاں سعودی عرب کے شہر مکہ میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کا خاندان حافظ بابا نگر میں رہتا ہے ۔ سنٹرل بینک آف انڈیا شاخ رین بازار میں منور علی خاں کی اہلیہ زرینہ سلطانہ کا بینک اکاونٹ موجود ہے ۔ منور علی خاں رقم سنٹرل بینک آف انڈیا شاخ رین بازار کے اکاونٹ میں روانہ کرتے ہیں ۔ ان دنوں زرینہ سلطانہ کے بینک اکاونٹ سے 60 ہزار روپئے رقم غائب ہوگئی ۔ جب بینک کھاتے سے رقم اچانک غائب ہونے پر خاتون بینک سے رجوع ہوئی تو ان کے ساتھ اس کی محنت کی رقم غائب ہونے پر بینک عہدیدار بالخصوص منیجر نے لا تعلقی کا اظہار کیا اور جب اس خاتون نے ان سے درخواست کی تو عملاً غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا ۔ جس کے بعد زرینہ سلطانہ نے بینک اسٹیٹمنٹ حاصل کرنے کے بعد سائبر کرائم پولیس کے حوالہ کردیا ۔ اس خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کسی سے او ٹی پی شیئر کیا نہ ہی کسی کو بینک تفصیلات فراہم کی نہ ہی اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال کیا ۔ نہ ہی سی وی وی نمبر کسی کو دیا پھر بھی ان کے بینک کھاتے سے رقم غائب ہوگئی جو ایک معمہ بن گیا ہے ۔ اس خاتون کے بینک اکاونٹ سے بنگلور میں خریداری کی گئی اور خریداری کرنے والے کا نمبر بھی حاصل ہوگیا ہے ۔ باوجود اس کے بینک ملازمین کی لاپرواہی رقومات کے اچانک غائب ہونے میں ان کے مبینہ رول پر شبہ ظاہر کرتی ہے ۔ شہریوں کی رقومات اور کھاتوں کے ذریعہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے والے بینکس کے اس طرح کا رویہ شہریوں میں بے چینی اور برہمی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ چند ماہ قبل غوث نگر کی ایک خاتون کے بینک کھاتے سے لاکھوں روپئے کی رقم غائب ہوچکی تھی جو بعد میں جمع ہوگئی اور اب اس خاتون کے ساتھ اس طرح کا واقعہ جو تشویش اور خوف و ہراسانی کا سبب بنا ہوا ہے ۔۔