بیٹے کو واپس لانے بہادر ماں کا 1400 کیلومیٹر تنہا سفر

   

Ferty9 Clinic

بودھن کی خاتون ہیڈ مسٹریس رضیہ بیگم اسکوٹی پر رحمت آباد میں پھنسے فرزند کو گھر لے آئیں
حیدرآباد 9 اپریل ( پی ٹی آئی ) اپنے بیٹے کی محبت ‘ حوصلے اور عزم نے ایک خاتون کو 1,400 کیلومیٹر کا ایک اسکوٹر پر سفر تین دن میں طئے کیا اور اپنے بیٹے کو گھر واپس لے آئی جو آندھرا پردیش کے نیلور ضلع میں لاک ڈاون کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا ۔ تفصیلات کے بموجب 48 سالہ رضیہ بیگم نے پیر کی صبح مقامی پولیس کی اجازت سے بودھن ( ضلع نظام آباد ) سے اپنا سفر شروع کیا اور تنہا نیلور تک کا سفر طئے کیا اور اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ چہارشنبہ کی شام وہ نظام آباد بودھن واپس آگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’یہ چھوٹی سی ٹو وہیلر گاڑی پر ایک خاتون کیلئے یہ ایک مشکل سفر تھا تاہم میرے بیٹے کو واپس لانے کے جذبہ نے میرے تمام خوف دور کردئے ۔ میں نے روٹیاں باندھ کر ساتھ رکھ لی تھیں۔ راتوں میں یہ سفر خوف کے ساتھ تھا کیونکہ سڑکوں پر کوئی نہیں تھا اور گاڑیاں تھیں۔ محترمہ رضیہ بیگم ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں ۔ ان کے شوہر کا 15 سال قبل انتقال ہوگیا تھا اور وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ بڑا بیٹا انجینئرنگ گریجویٹ ہے اور چھوٹا بیٹا 19 سالہ نظام الدین ہے جو ایم بی بی ایس کی تیاری کر رہا ہے ۔ وہ نیلور ضلع میں رحمت آباد کی درگاہ کو گیاہ ہوا تھا کہ لاک ڈاون کا اعلان ہوگیا ۔ بیٹے نے ماں سے فون پر کہا کہ وہ واپس آنے بے چین ہے ۔ اس بات پر ماں بھی بے چین ہو اٹھیں اور انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو روانہ کرنے کی بجائے خود جانا مناسب سمجھا اور روانہ ہوگئیں۔ وہ پیر کی صبح بودھن سے روانہ ہوئیں اور چہارشنبہ کی شام واپس آئیں۔