’’بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو ‘‘

   

آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد اُمت کے منافقین وقف ایکٹ کے ترمیمی بل پر بھی سرگرم

حیدرآباد۔5۔اگست۔(سیاست نیوز) ملک میں کشمیر کے خصوصی موقف کوختم کرنے کی تائید کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کا ٹولہ دہلی میں دوبارہ سرگرم ہوچکا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے وقف ایکٹ کی ترمیم کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کی تائید میں مصروف ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والا مکروہ ٹولہ اس ترمیم کی تائید کے لئے مرکزی وزراء سے ملاقاتوں میں مصروف ہے جس ترمیم کی کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے سخت مخالفت کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ہندستان میں موجود وقف جائیدادوں کو مسلمانوں سے چھیننے کی غرض سے کی جانے والی مرکزی حکومتوں کی ان کوششوں کی مخالفت ہر گوشہ سے کی جا رہی ہے لیکن مسلمانوں میں ہی حکومت کو ایسے عناصر ہر وقت دستیاب ہوجاتے ہیں جو حکومت کے اقدام کی تائید کے لئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں خواہ اس میں اُمت کا کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ ہو ۔ حکومت کی خوشنودی کے لئے یہ عناصر اقتدار کی چوکھٹ پر جھکتے ہوئے فائدے حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ حیدرآباد کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نام نہاد مشائخین جن کے آباء و اجداد کی جانب سے وقف کردہ ایک انچ اراضی نہیں ہے بلکہ وہ ان لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیںجن کا علامہ اقبال نے ’’جواب شکوہ ‘‘ میں تذکرہ کرتے ہوئے مصرعہ لکھا تھا کہ ’’بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو‘‘ یہ نام نہاد مشائخین جو مرکزی حکومت کے وقف ترمیم بل کی موافقت کے لئے اپنی قیمت لگانے کی غرض سے دہلی میں ملاقاتوں میں مصروف ہیں انہیں معلوم ہے کہ وہ امت کو نقصان پہنچارہے ہیں اور مرکز میں بی جے پی حکومت کو اپنی تائید کے ذریعہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 2019 میں کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی کی بھی اس گروہ نے حمایت کرتے ہوئے سرکاری خرچ پر کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے ہندستان بھر میں یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں لیکن آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد استعمال ہونے والے اس ٹولہ اب دوبارہ سرگرم ہوگیا ہے اور اس سلسلہ میں وزارت داخلہ اور دیگر وزراء سے ملاقاتوں کے ذریعہ ملک بھر میں وقف ترمیم بل کی تائید میں مہم چلانے کے لئے ’فنڈس‘ طلب کرنے میں مصروف ہیں۔شہر حیدرآباد جو کہ غیور مسلمانوں کی سرزمین ہے اس سرزمین پر منافقوں نے اپنی منافقت کے ذریعہ بعض ایسے افراد کا بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے جو کہ بنیادی طور پر وقف ترمیمی بل کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں لیکن اس نام نہاد ٹولہ کے ذمہ داروں نے ایسے افراد کو بھی گمراہ کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس بل کی مخالفت میں ملاقات کے متمنی ہیں لیکن یہ لوگ حقیقت میں ایسے افراد کے توسط سے حکومت کے ذمہ داروں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے اس بل کی تائید کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔3