چنڈی گڑھ: ہریانہ کا روہتک کشتی کیلئے جانا جاتا ہے ، لیکن نوجوان انتی ہڈا، جو حال ہی میں بیڈمنٹن میں شاندار مظاہروں کے ذریعہ چمکی ہیں، انھوں نے اپنے اسمیش، ڈراپ شاٹس، شارپ رٹرن اور جال سے بھرپور نیٹ کھیل سے شہر کیلئے ایک الگ جگہ بنائی ہے ۔ 3 جون کو ڈی بی جی سینئر سیکنڈری پبلک اسکول، روہتک سے 10ویں جماعت پاس کرنے والی اس طالبہ کا نام ہریانہ میں ہونے والے کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں ایک روشن نام ہوگا۔انتی پہلے ہی گولڈ میڈل پر اپنی نظریں جما چکی ہے ۔ صرف 14 سال کی عمر میں، اُنّتی نے اپنی پختگی اور مہارت سے سب کو اسوقت حیران کر دیا جب وہ اس سال کے شروع میں اوڈیشہ اوپن میں بی ڈبلیو ایف سپر 100 ٹائٹل جیتنے والی سب سے کم عمر ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑی بن گئیں۔
اوڈیشہ اوپن اُنّتی کا دوسرا بین الاقوامی ٹورنامنٹ تھا۔ اس نے 2020 انفوسس انٹرنیشنل چیلنج کے فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ انتی نے روہتک کے چھوٹو رام اسٹیڈیم میں اس کھیل کو سیکھا جس میں ریو اولمپک میڈلسٹ ساکشی ملک جیسے چوٹی کے پہلوانوں کو تیار کیا جاتا ہے ۔انتی کے والد اپکار ہمیشہ سے بیڈمنٹن کے بارے میں پرجوش رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو اس کھیل کو اپنانا چاہیے جو اس نے کیا اور اس کیلئے باعث فخر ہے ۔ اپکار نے کہا‘‘یہ میری توقعات سے آگے تھا۔ وہ کھیل اور پڑھائی دونوں میں اچھی ہے اور میں چاہتا تھا کہ وہ بیڈمنٹن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے ۔ اپکار نے اپنی بیٹی کے بیڈمنٹن کیریئر پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے اپنا تدریسی کریئر چھوڑ دیا تھا۔ انتی اوبر کپ ٹیم میں جگہ بنانے والی سب سے کم عمر ہندوستانی بن گئیں۔ انہوں نے سلیکشن ٹرائلز میں ٹاپ چار کھلاڑیوں میں جگہ بنائی تھی اور اس ماہ کے شروع میں بنکاک میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنائی ۔ گزشتہ چھ ماہ میں ہندوستانی ٹیم کے حصے کے طور پر یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ وہ پریکٹس سیشن کے دوران اپنے آئیڈیل پی وی سندھو کے ساتھ پریکٹس کر کے بہت خوش تھیں۔ انتی نے کہا‘‘میں سندھو جیسی کھلاڑی کے ساتھ کھیلنے سے بہت خوش ہوں جس کا ہر کھلاڑی خواب دیکھتا ہے ۔ میں ان کے (سندھو) کے تمام میچوں کو فالو کرتی ہوں۔ مجھے ان کی کھیل کے تئیں وابستگی اور نظم و ضبط پسند ہے ۔ دو اولمپک تمغے جیتنا کوئی آسان کارنامہ نہیں ہے ۔ کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں انتی کی موجودگی ان کھیلوں کو صرف گلیمر دے گی۔ کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں بیڈمنٹن گیمز کی منیجر سنیتا سنگھ نے کہا کہ ہمیں ان کی موجودگی پر خوشی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ سب کیلئے ایک تحریک ثابت ہوں گی۔