بیگم پیٹ ائرپورٹ پر ہوابازی ریسرچ سنٹر قائم کیا جائیگا

   

لوک سبھا میںوزیر ہوابازی جیوتر آدتیہ سندھیا کا جواب۔ ہوابازی یونیورسٹی کا منصوبہ نہیں
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت بیگم پیٹ ائرپورٹ پر سیول اوئیشن ریسرچ سنٹر ( کارو ) کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ مرکزی وزیر شہری ہوابازی جیوتر آدتیہ سندھیا نے چیوڑلہ کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جی رنجیت ریڈی کو لوک سبھا میںیہ بات بتائی ۔ ڈاکٹر ریڈی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سندھیا نے مطلع کیا کہ ائرپورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے 402.13 کروڑ روپئے کے صرفہ سے اس پراجیکٹ کو مکمل کیا جائیگا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کو 2023 کے اختتام تک مکمل کرلیا جائیگا ۔مجوزہ سنٹر میں ریسرچ و ڈیولپمنٹ کی سہولیات ہونگی ۔ ائرپورٹس اور ائر نیویگیشن سروسیس ‘ ائر ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر امور کو شامل کیا جائیگا ۔ اس سنٹر میں سائبر سکیوریٹی اور خطرات کا جائزہ لینے والے لیبس بھی ہونگے۹ اور یہاں ڈاٹا مینجمنٹ ‘ پراجیکٹ سپورٹ ‘ سافٹ وئیر سولیوشن اینڈ ٹولس اور نیٹ ورک انفرا اسٹرکچر کے مراکز بھی اس کے تحت ہونگے ۔ رکن پارلیمنٹ چیوڑلہ نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آیا حکومت ہوابازی یونیورسٹی بھی بیگم پیٹ ائرپورٹ پر قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ ہوابازی کے شعبہ کی تعلیم کو فروغ دیا جاسکے کیونکہ اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس پر وزیر شہری ہوابازی مسٹر سندھیا نے اپنے بیان میں کہا کہ فی الحال ایسی کوئی تجویز وزارت شہری ہوابازی کے زیر غور نہیں ہے ۔