حیدرآباد۔ 8 ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس اور کانگریس
دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کو اسمبلی انتخابات کے دوران پیٹھ میں خنجر گھوپنے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ دونوں پارٹیوں میں ٹکٹ کے پر امید افراد کی بڑی تعداد ہے۔ کوئی بھی پارٹی پر امید تمام لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتی کیونکہ ان کی تعداد اسمبلی نشستوں کی تعداد سے تین گنا سے زیادہ ہے۔ امیدواروں کے اعلان کے بعد بی آر ایس کو شدید ناراضگیوں کا سامنا ہے۔ کانگریس پارٹی امکان ہیکہ اس ماہ کے اختتام تک اس کے امیدواروں کی پہلی فہرست کا اعلان کرے گی۔ کانگریس میںبھی بی آر ایس کی طرح اسمبلی ٹکٹس کے لئے بہت زیادہ مانگ کی جارہی ہے۔ بی آر ایس کے بعض ناراض قائدین نے پارٹی چھوڑ دیا ہے اور کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کانگریس کو بھی اس کے امیدواروں کے اعلان کے بعد اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے اور اس کے بعض قائدین بی آر ایس میں اور دوسرے بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ بی آر ایس اور کانگریس کے ٹکٹ کے خواہشمند ناراض قائدین جو اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں بی جے پی سے رجوع ہوسکتے ہیں کیونکہ اس کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کئی اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس اور کانگریس کے مقامی قائدین نے دو تا تین گروپس بنائے ہیں۔